پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

حادثے کی صورت میں جہاز کی محفوظ ترین سیٹ کونسی ہوتی ہے

datetime 11  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) فضائی سفر کو اگرچہ محفوظ ترین ذریعہ سفر سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب بدقسمتی سے کوئی فضائی حادثہ ہو جائے تو اس کی تباہی بھی خوفناک ترین ہوتی ہے۔ اگرچہ اس قسم کے حادثات میں بچنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں مگر تحقیق کاروں نے معلوم کیا ہے کہ جہاز کی کچھ سیٹیں ایسی ضرور ہیں کہ جن پر بیٹھے مسافروں کا بچنے کا امکان دیگر مسافروں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔
اخبار ’ڈیلی سٹار‘ کے مطابق یہ تحقیق چینل فور کی ایک ڈاکومینٹری کے لئے کی گئی اور اس میں میکسیکو کے صحرا میں ایک بوئنگ 727 طیارے کو گرا کر بھی دیکھا گیا کہ کونسے حصے زیادہ اور کون سے کم متاثر ہوتے ہیں۔
ان تجربات اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ جہاز کے پچھلے حصے میں بیٹھے مسافروں کا بچنے کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے جبکہ فرسٹ کلاس کے جو مسافر اگلے حصے میں بیٹھے ہوتے ہیں ان کے بچنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ حادثے کے دوران زمین سے ٹکرانے پر جہاز کے اگلے حصے پر 12G دباﺅ ریکارڈ کیا گیا جبکہ پچھلے حصے پر یہی دباﺅ تقریباً آدھا یعنی 6Gتھا۔
جہاز کے زمین پر گرنے کی صورت میں اس میں سے جلد از جلد نکلنا ہی زندگی بچانے کا بہترین طریقہ ہے کیونکہ اس میں آگ لگنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ امریکی سول ایوی ایشن کو پیش کی گئی ایک تحقیق کے مطابق جو مسافر ہنگامی انخلاءکے دروازے سے چھ سیٹوں تک کے فاصلے تک بیٹھے ہوتے ہیں ان کے بچنے کا امکان بھی دیگر مسافروں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…