جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

نواز،شہباز شریف اہل خاندان‘ پارٹنرز کی احتساب عدالت سے بریت سپریم کورٹ میں چیلنج

datetime 21  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) سپریم کورٹ میں وزیراعظم نواز شریف‘ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کے خاندان‘ پارٹنرز کی احتساب عدالت سے بریت کو چیلنج کر دیا گیا ہے۔ احتساب عدالت راولپندی سے تمام تر ریکارڈ طلب کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست محمود اختر نقوی نے پیر کے روز دائر کی ہے جس میں وفاقی حکومت‘ سیکرٹری قانون و انصاف‘ رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ‘ احتساب عدالت جج‘ چیئرمین نیب سمیت 7 افراد اور اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سائل کی آئینی درخواست مفاد عامہ اور آئین و قانون اور عدالت عظمیٰ پاکستان کی دی ہوئی عدالتی فیصلوں کی نظیروں کے تحت قابل سماعت ہے اور زیر نظر آئینی درخواست میں درج نکات کے ساتھ پاکستان میں آئین کی بالادستی اور قانون و انصاف کی عظمت کے لئے داد رسی کی استدعا ہے۔ سائل دستور کی دفعہ 174 کے تحت وفاق اور دیگر کو مدعا علیہان بنا کر عرض گزار ہے کہ وزیراعظم نوازشریف‘ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف‘ عباس شریف‘ شمیم اختر‘ کلثوم نواز اور مختار حسن ڈائریکٹر اتفاق فاؤنڈری پارٹنرز اور کمال قریشی دائریکٹر نے ملی بھگت کرتے ہوئے مورخہ 19-05-2015 کو سہیل ناصر جج عدالت نیب ڈسٹرکٹ راولپنڈی کی عدالت سے بری کروا لیا فیصلے میں کہا گیا کہ ریفرنس جھوٹ پر مبنی اور سیاسی انتقام تھا شریف خاندان اور نیشنل بنک کے



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…