جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

پشاور حملے میں افغانستان کی سرزمین استعمال ہونے کے حوالہ سے شواہد اکٹھے کر لئے گئے

datetime 21  ستمبر‬‮  2015 |
Pakistani soldiers arrive to take position outside the Pakistan Air Force base after an attack by militants in Peshawar on September 18, 2015. Militants attacked the air base in the northwestern city of Peshawar, the military said, adding that at least six attackers had been killed. AFP PHOTO / A MAJEED

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان نے پشاور حملے میں افغانستان کی سرزمین استعمال ہونے کے حوالہ سے شواہد اکٹھے کر لئے ہیں اور انہیں جلد حتمی شکل دے کر افغانستان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق ملک کی اعلیٰ ترین سول اور فوجی قیادت نے پشاور میں پاکستانی فضائیہ کے کیمپ پر گذشتہ ہفتے ہونے والے حملے کے بارے میں ان شواہد کا جائزہ لیا ہے جو افغان حکومت کے حوالے کیے جائیں گے۔ اس حملے کے بارے میں ہونے والے ایک اجلاس میں بہت سے شواہد پیش کیے گئے جن میں ان شواہد کو علیحدہ کیا گیا جو افغان حکام کے حوالے کیے جائیں گے۔سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ دستاویزی ثبوت لے کر پاکستانی حکام بہت جلد کابل جائیں گے۔رپورٹ کے مطابق اس اجلاس میں بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، فوج کی ملٹری آپریشنز برانچ کے سربراہ میجر جنرل عامر ریاض، ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل ندیم ذکی کے علاوہ دفاع کے وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور خزانہ کے وفاقی وزیر اسحٰق ڈار نے شرکت کی۔ اجلاس میں افغانستان کو اس حملے کے بارے میں شواہد کی فراہمی کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کے لیے تجاویز پر بھی بات کی گئی۔ پشاور کے قریب بڈھ بیر کے مقام پر پاکستانی فضائیہ کے کیمپ پر حملے میں 14 حملہ آوروں کے علاوہ 30 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے بیشتر کا تعلق پاکستانی فضائیہ سے تھا۔پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اسی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی بھی افغانستان میں ہوئی، لوگوں کی تربیت بھی وہیں ہوئی اور حملہ آور آئے بھی افغانستان سے تھےوبعد میں سرکاری حکام نے یہ بھی کہا کہ حملہ آور پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے راستے پشاور میں داخل ہوئے۔پاکستان پچھلے سال پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کا الزام بھی افغانستان کے علاقے کنڑ میں روپوش تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ پر عائد کرتا رہا ہے اور اس حملے میں شامل افراد کو سہولیات فراہم کرنے پر بعض افراد کو فوجی عدالت سے سزائیں بھی دی جا چکی ہیں۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…