منگل‬‮ ، 14 اپریل‬‮ 2026 

توانائی کے شعبہ میں 980ارب کے گھپلے ،عمران خان نے مطالبہ کردیا

datetime 21  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے مالی سال 2012-13ءکے دوران توانائی کے شعبے میں 980 ارب کے گھپلوں ، بے ضابطگیوں اور مالی بدعنوانیوں کی نشاندہی پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت اس کے ذمہ داروں کی فوری گرفتار کرے اور اوپر سے لے کر نیچے تک سب کا احتساب یقینی بنائیں۔پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں عمران خان نے کہا کہ جب تک کرپٹ عناصر کو سزائیں نہیں دی جاتیں کرپشن کی کہانیاں منظر عام پر لانے سے صورتحال میں کوئی خاطر خواہ بہتری کی توقع نہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو نہ صرف بے نقاب کیا جائے بلکہ ان کو کڑی سے کڑی سزائیں بھی دی جائیں۔انہوںنے کہا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے واپڈا کے اکاﺅنٹس کی جانچ کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ وزارت پانی و بجلی کے ماتحت کام کرنیوالی بیشتر کمپنیاں بدعنوانیوں اور مالی بے ضابطگیوں کا بری طرح شکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی بہت سی پاور کمپنیاں غیر شفاف اور غیر یقینی کے ماحول میں کام کرنے میں مصروف ہیں جس کے باعث ملک سے بجلی بحران کے خاتمے کی بجائے اس کی شدت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان سپریم کورٹ میں سامنے آنیوالی رقم یعنی 980 ارب حالیہ بجٹ جو کہ 4 کھرب کا ہے کے چوتھائی حصے کے برابر ہے ، انہوں نے کہا کہ قومی خزانے پر پڑنے والا یہ بڑا ڈاکہ قوم کی نظروں میں محض اس لئے اوجھل رہا کہ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی اس حوالے سے آپس میں مک مکا کئے ہوئے تھیں اور دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو احتساب کے کسی قسم کے خوف کے بغیر لوٹ مار کرنے کی اجازت دے رکھی تھی۔ اپنے بیان میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے حوالے سے مزید بتایا کہ 2012-13ءکے پہلے ادوار کا ایک بڑا سرمایہ جس کی مالیت تقریباً 4.2 کھرب بنتی ہے کی پڑتال ابھی باقی ہے۔ اپنے بیان میں واپڈا کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف آڈٹ کی جانب سے اس اعتراف کو کہ 10 لاکھ سے کم مالیت کے دھوکے یا بے ضابطگی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ کا بنیادی فریضہ ہے کہ وہ توانائی کے شعبے سے منسلک مالیاتی کھاتوں کی مناسب پڑتال یقینی بنائے۔ ڈائریکٹوریٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2012-13ءمیں بے ضابطگیوں ، قواعد کی خلاف ورزیوں یا دیگر بدعنوانیوں کی 184 شکایات موصول ہوئیں جن کی مالیت تقریباً 368.65 ارب بنتی ہے۔ عمران خان نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے کے ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کا اہتمام کرے اور اوپر سے لے کر نیچے تک سب کا احتساب یقینی بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کی سب سے بڑی کام یابی


وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…