جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

توانائی کے شعبہ میں 980ارب کے گھپلے ،عمران خان نے مطالبہ کردیا

datetime 21  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے مالی سال 2012-13ءکے دوران توانائی کے شعبے میں 980 ارب کے گھپلوں ، بے ضابطگیوں اور مالی بدعنوانیوں کی نشاندہی پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت اس کے ذمہ داروں کی فوری گرفتار کرے اور اوپر سے لے کر نیچے تک سب کا احتساب یقینی بنائیں۔پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں عمران خان نے کہا کہ جب تک کرپٹ عناصر کو سزائیں نہیں دی جاتیں کرپشن کی کہانیاں منظر عام پر لانے سے صورتحال میں کوئی خاطر خواہ بہتری کی توقع نہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو نہ صرف بے نقاب کیا جائے بلکہ ان کو کڑی سے کڑی سزائیں بھی دی جائیں۔انہوںنے کہا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے واپڈا کے اکاﺅنٹس کی جانچ کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ وزارت پانی و بجلی کے ماتحت کام کرنیوالی بیشتر کمپنیاں بدعنوانیوں اور مالی بے ضابطگیوں کا بری طرح شکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی بہت سی پاور کمپنیاں غیر شفاف اور غیر یقینی کے ماحول میں کام کرنے میں مصروف ہیں جس کے باعث ملک سے بجلی بحران کے خاتمے کی بجائے اس کی شدت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان سپریم کورٹ میں سامنے آنیوالی رقم یعنی 980 ارب حالیہ بجٹ جو کہ 4 کھرب کا ہے کے چوتھائی حصے کے برابر ہے ، انہوں نے کہا کہ قومی خزانے پر پڑنے والا یہ بڑا ڈاکہ قوم کی نظروں میں محض اس لئے اوجھل رہا کہ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی اس حوالے سے آپس میں مک مکا کئے ہوئے تھیں اور دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو احتساب کے کسی قسم کے خوف کے بغیر لوٹ مار کرنے کی اجازت دے رکھی تھی۔ اپنے بیان میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے حوالے سے مزید بتایا کہ 2012-13ءکے پہلے ادوار کا ایک بڑا سرمایہ جس کی مالیت تقریباً 4.2 کھرب بنتی ہے کی پڑتال ابھی باقی ہے۔ اپنے بیان میں واپڈا کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف آڈٹ کی جانب سے اس اعتراف کو کہ 10 لاکھ سے کم مالیت کے دھوکے یا بے ضابطگی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ کا بنیادی فریضہ ہے کہ وہ توانائی کے شعبے سے منسلک مالیاتی کھاتوں کی مناسب پڑتال یقینی بنائے۔ ڈائریکٹوریٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2012-13ءمیں بے ضابطگیوں ، قواعد کی خلاف ورزیوں یا دیگر بدعنوانیوں کی 184 شکایات موصول ہوئیں جن کی مالیت تقریباً 368.65 ارب بنتی ہے۔ عمران خان نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے کے ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کا اہتمام کرے اور اوپر سے لے کر نیچے تک سب کا احتساب یقینی بنائیں۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…