جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

گلوبل فنڈ نے پاکستان کے ٹی بی اور ملیریا پروگرام کیلئے 282 ملین ڈالر گرانٹ کی منظوری دیدی

datetime 8  جون‬‮  2023 |

اسلا م آبا د(این این آئی)وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوارڈینیشن عبد القادر پٹیل نے کہا ہے کہ گلوبل فنڈ نے پاکستان کے ٹی بی اور ملیریا پروگرام کیلئے 282 ملین ڈالر زگرانٹ کی منظوری دیدی ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کامن مینجمنٹ یونٹ کی ٹیم اور وزارت صحت کے افسران خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کامن مینجمنٹ یونٹ کو مزید مضبوط اور اس کی استعداد کار کو مزید بڑھائیں گے۔وزارت صحت کی کوششیں رنگ لے آئیں۔منظوری گلوبل فنڈ کی ٹیکنیکل ریویو کمیٹی کی منظوری کے بعد ہوئی۔انہوں نے کہا کہ گرانٹ ٹی بی اور ملیریا جیسی بیماری کو ختم کرنے میں موثر ثابت ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ 2003 سے اب تک پہلی مرتبہ پاکستان کی فنڈنگ درخواست کو گلوبل فنڈ کی پہلی ونڈو میں منظوری دی گئی۔عبد القادر پٹیل نے کہا کہ میں گلوبل فنڈ کی ٹیم کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے پاکستان کے کیس کو لڑا ہے۔ڈبلیو ایچ او یو ایس ایڈ یونیسف یو این ایڈز کے ڈونرز کا بھی مشکور ہوں،ان اداروں نے گرانٹ حاصل کرنے میں پاکستان کو تکنیکی مدد دی ،وزارت صحت عوام کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت ہمارا مشن ہے اور صحت کا شعبہ بہتری کی جانب گامزن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…