جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

سیاسی جماعتوں پر ایسے حالات آتے رہتے ہیں، زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،چیف الیکشن کمشنر

datetime 6  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ ضبطگی سے متعلق شوکاز نوٹس پر سماعت کے دور ان تحریک انصاف کے وکیل انور منصور نے کہاہے کہ نا معلوم افراد دفتر سے سارا ریکارڈ اْٹھا کر لے گئے ہیں،، ریکارڈ کی عدم موجودگی پر کیا دلائل دیں؟

جبکہ ، چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں پر ایسے حالات آتے رہتے ہیں، زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،انتخابی ادارے نے پی ٹی آئی وکیل کی جواب جمع کرانے کیلئے مزید وقت دینے کی استدعا منظور کرلی۔ منگل کو تحریک انصاف کی ممنوعہ فنڈنگ کی ضبطگی سے متعلق شوکاز نوٹس پر سماعت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی۔ چیف الیکشن کمشنر اور پی ٹی آئی وکیل میں دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔پی ٹی آئی وکیل انور منصور نے کہا کہ نامعلوم افراد ہمارے آفس سے تمام ریکارڈ اٹھا کر لے گئے ہیں،ریکارڈ کی عدم موجودگی پر کیا دلائل دوں؟۔انور منصور نے جواب جمع کرانے کیلئے مزید وقت دینے کی استدعا کردی۔ چیف ا لیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں پر ایسے حالات آتے رہتے ہیں۔اس پر بہت زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ 10 ماہ بعد بھی آج تک جواب جمع نہیں کرایا گیا۔ اس پر پی ٹی آئی وکیل نے کہا ابتدائی جواب تو پہلے ہی فائل کرچکا ہوں۔پی ٹی آئی وکیل نے جواب جمع کرانے کیلئے مزید وقت دینے کی استدعا کی۔ الیکشن کمیشن نے استدعا منظور کرتے ہوئے مزید چار ہفتوں کا وقت دیدیا اور کیس کی مزید سماعت 6 جولائی تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…