اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

پی آئی اے کو رواں مالی سال 36ارب روپے سے زائد کا نقصان ہونے کا انکشاف

datetime 31  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد(این این آئی) قومی ایئرلائن پی آئی اے کو رواں مالی سال کے پہلی3ماہ میں 36ارب 77کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔پی آئی اے نے مارچ2023 کو ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے مالی نتائج جاری کردئیے ہیں۔پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے گزشتہ روز کراچی میں ہونے والے اپنے اجلاس میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے حسابات کی منظوری دے دی ہے۔
جاری کردہ حسابات کے مطابق جنوری تا مارچ 2023 پی آئی اے کی آمدنی 59ارب روپے رہی۔گزشتہ سال 2022 کی پہلی سہ ماہی میں ہونے والی آمدنی کی نسبت پی آئی اے کو رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ہوئی آمدنی میں24ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔اس طرح گزشتہ سال کے مقابلہ میں پی آئی اے کو اس سال کے پہلے 3ماہ میں قبل از ٹیکس 5ارب کا گراس پرافٹ ہوا لیکن آمدنی کے مقابلے میں بے قابو اخراجات کی وجہ سے پی آئی اے کو رواں مالی سال کے پہلے 3ماہ میں 36ارب 77کروڑ روپے کا خالص نقصان ہوا ہے۔

اسٹاک مارکیٹ میں پی آئی اے کا فی حصص نقصان 2روپے 60پیسے سے بڑھ کر7روپے 2پیسے تک پہنچ گیا ہے۔جاری مالیاتی رپورٹ کے مطابق مارچ 2023 کی سہ ماہی میں پی آئی اے نے طیاروں کیلئے 25ارب 60کروڑ روپے کا ایندھن خریدا، نقصان میں بڑا حصہ دگنا ہوجانے والے ایندھن کے اخراجات کا ہے۔پی آئی اے نے تنخواہوں اور جاری اخراجات کی مد میں28ارب 55کروڑ روپے خرچ کیے جبکہ گزشتہ سہ ماہی میں پی آئی اے نے تنخواہوں اور جاری اخراجات کی مد میں 21ارب روپے خرچ کیے تھے۔

ایندھن اور ڈالر مہنگا ہونے، شرح سود میں اضافہ اور اخراجات پر قابو نہ پانے سے پی آئی اے کا نقصان بڑھا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال2022 کے اسی عرصے کے مقابلے پی آئی اے کا نقصان 171فیصد زائد ہے۔اس کے علاوہ پی آئی اے کو روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت بڑھنے سی21ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔پی آئی اے کو2022 کے پہلے تین ماہ کے مقابلے میں رواں مالی سال 2023 کے خسارے میں 171فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران پی آئی اے صرف 61ارب روپے کی آمدنی کرسکا۔رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کے آپریٹنگ اخراجات 15ارب روپے اضافہ کے بعد بڑھ کر 43ارب روپے ہوگئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…