جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

75 روپے کے نئے کرنسی نوٹ بارے اسٹیٹ بینک کا اہم اعلان

datetime 27  اپریل‬‮  2023 |

کراچی (این این آئی)پاکستان کے 75 ویں یوم آزادی پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 75 روپے مالیت کا یادگاری کرنسی نوٹ جاری کیا تھا جسے بعد میں عوامی سطح پر لین دینے کیلئے بھی قابل استعمال قرار دے دیا گیا تاہم اس نوٹ کے حوالے سے اب بھی بیشتر شہریوں اور خاص طور پر دکانداروں کو شکوک و شبہات ہیں۔

عید کے موقع پر شہریوں نے خاص طور پر 75 روپے کے نئے کرنسی نوٹ حاصل کیے اور بچوں میں تقسیم کیے تاہم کئی شہریوں نے یہ شکایت کی ہے کہ انہوں نے 75 روپے کے جو کرنسی نوٹ بچوں کو بطور عیدی دی، دکاندار ان نوٹوں کو قبول نہیں کر رہے اور بچے دکانوں سے مایوس لوٹ رہے ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے باضابطہ ٹوئٹ کے ذریعے اس بات کی وضاحت کی تھی کہ 75 روپے کا کرنسی نوٹ عام لین دین کیلئے قابل قبول ہے اور عوام بلا خوف اس کا استعمال کر سکتے ہیں تاہم اس کے باوجود یہ نیا کرنسی نوٹ مکمل طور پر عوام کا اعتماد حاصل نہیں کرسکا ہے۔

دکانداروں کے مطابق وہ اس لیے 75 روپے کا کرنسی نوٹ وصول نہیں کر رہے کیوں کہ جب وہ یہی نوٹ آگے کسی صارف کو دیتے ہیں تو وہ لینے سے انکار کردیتا ہے جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ دکانداروں سے یہ کرنسی نوٹ اس لیے نہیں لیتے کیوں کہ بہت سے دکاندار یہ نوٹ تسلیم نہیں کرتے۔شہریوں نے کہاکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ٹوئٹ کیا جانا کافی نہیں بلکہ اس کی تشہیر قومی ٹیلی وڑن اور اخبارات کے ذریعے کی جانی چاہیے تاکہ لوگوں کا اعتماد بحال ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…