ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ثاقب نثار سیاسی دکان چمکانے کیلئے عدالت لگاتے تھے، وزیراعظم

datetime 18  اپریل‬‮  2023 |

راولپنڈی(این این آئی)وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر سابق چیف جسٹس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ثاقب نثارغریب کو انصاف کیلئے نہیں سیاسی دکان چمکانے کیلئے عدالت لگاتے تھے،ثاقب نثار حنیف عباسی کو شکست دلانے کیلئے شیخ رشید کے ایجنٹ بن کر حلقے میں گئے۔

میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مریضوں کا علاج کرنا بہت بڑی عبادت ہے، اس ہسپتال کی تعمیر میں 5 ارب روپے لگ چکے ہیں،ہسپتال کو بہت پہلے دکھی انسانیت کی خدمت میں کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے اس ہسپتال کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا تھا لیکن کورونا کے دنوں میں بھی اسپتال نے بے پناہ خدمات انجام دیں۔وزیراعظم نے سابق چیف جسٹس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ایک شخص دن رات کہتا تھا کہ شہباز شریف نے 20 ارب روپے کہاں لگائے، وہ شخص کہتا تھا کہ 20 ارب روپے غرق ہوگئے ہیں، اس شخص کانام ہے ثاقب نثار، اگر 20 ارب غرق ہوگئے تھے تو لاہورکا سب سے بڑا کورونا سینٹر کیسے بن گیا، پی کے ایل آئی میں مفت پیوند کاری کا انتظام کیا گیا تھا۔شہباز شریف نے کہا کہ ثاقب نثارغریب کو انصاف کیلئے نہیں سیاسی دکان چمکانے کیلئے عدالت لگاتے تھے، ثاقب نثار حنیف عباسی کو شکست دلانے کیلئے شیخ رشید کے ایجنٹ بن کر حلقے میں گئے۔انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کے میدان میں سیاست کو شجرہ ممنوعہ قرار دینا چاہیے، تعلیم اور صحت کے میدان میں سیاست کی قطع اجازت نہیں ہونا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…