پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

بھارت میں خطرناک وائرس نے ڈیرے جمالئے،دس افرادہلاک،1500ہسپتا ل پہنچ گئے

datetime 15  ستمبر‬‮  2015 |
An Aedes albopictus female mosquito feeds on a human blood meal. Photo by James Gathany, Centers for Disease Control and Prevention

نئی دہلی(نیوزڈیسک)بھارت میں ڈینگی سے دونومولودبچوں سمیت دس افرادہلاک جبکہ 1500افرادبیمارہوکراسپتال جا پہنچے،ڈینگی سے ہلاک ہونے والے بچے کے صدمے میں والدین نے بھی خودکشی کرلی ،مرکزی وزارت صحت نے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا حکم دیتے ہوئے دہلی حکومت سے رپورٹ طلب کرلی جبکہ دہلی کے وزیرصحت نے کہاہے کہ اسپتالوں میں ڈینگی سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں تاہم شہری حفاظتی اقدامات نظراندازنہ کریں،برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے یقین دہانی کرائی کہ مقامی ہسپتال ڈینگی کے بخار سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں،انہوں نے کہاکہ اس سال ڈینگی کا اثر گذشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن حکومت نے ہسپتالوں میں تیاری کر رکھی ہے اور تمام مریضوں کو داخل کیا جا رہا ہے،ستیندر جین نے بتایاکہ دہلی میں ڈینگی کے 1200 سے 1500 کیس سامنے آئے ہیں ،انھوں نے کہاکہ دہلی حکومت نے اپنے ہسپتالوں میں انتظامات کیے ہیں لوگ گھبرائیں نہیں، دوا چھڑکنے،کولروں میں دوا ڈالنے اور گھر گھر جا کر معائنہ کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے،دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ لوگ اپنے گھروں میں پانی جمع نہ ہونے دیں ،آستینیں پوری چڑھاکررکھیں،مچھر دانیوں کا استعمال کریں،اگر آپ کے سر میں درد ہے، قے ہو رہی ہے تو خود اپنا علاج نہ کریں، بلکہ ڈاکٹر کے پاس جائیں، کیونکہ یہ خطرناک ہو سکتا ہے،بدن میں پانی کی کمی نہیں ہونی چاہئے،تاہم بھارتی میڈیانے وزیرصحت کے دعوے کا بھانڈاپھوڑتے ہوئے کہاکہ دہلی میں بر وقت علاج کی سہولت نہیں ملنے پر ایک بچے کی ڈینگی سے موت ہو گئی اور اس کے چند گھنٹوں بعد ہی اس کے ماں باپ نے خود کشی کر لی اس کے علاوہ ایک دوسرے بچے کی موت کے بعد ان کے والدین نے ہسپتال پر لاپروائی کا الزام لگایا ہے،بھارتی میڈیاکے مطابق ڈینگی سے مرنے والوں کی تعداد دس ہو گئی ہے جس کے بعد ہسپتالوں میں ڈینگی سے نمٹنے کی تیاری اور مریضوں کے ساتھ روئیے پر سوال اٹھائے جانے لگے،ادھرمرکزی وزیر صحت جے پی نڈڈا نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے اس بابت دہلی حکومت سے بھی رپورٹ طلب کرلی ہے ،دوسری جانب مرکزی وزارت صحت نے دہلی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان نجی ہسپتالوں کے خلاف کارروائی کرے جو ڈینگی کے مریضوں سے زیادہ پیسہ لے رہے ہیں،حکم کے مطابق دہلی حکومت سے کہا گیا ہے کہ دہلی کے سرکاری ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد بڑھائی جائے اور ڈینگی کے مریضوں کے وہاں داخلے کا عمل تیز کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…