اسلام آباد (این این آئی)رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے کہا ہے کہ 2010 سے سپریم کورٹ کا آڈٹ نہیں ہوا، چیف جسٹس کس قانون کے تحت آڈٹ نہیں کروارہے، کون سے قانون کے تحت تنخواہیں بڑھا رہے ہیں۔قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے نور عالم خان نے کہا کہ ملک غریب ہورہا ہے یہ لوگ پلاٹوں کے پیچھے لڑ رہے ہیں، دو اداروں کو پلاٹ مل رہے ہیں، بھاشا ڈیم کیلئے کتنے پیسے جمع اور خرچ کتنے ہوئے؟ ڈیم فنڈز کا آڈٹ کروانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ادارے نے اسٹیٹ بینک کو روک دیا کہ فنڈ کی تفصیلات نہیں دینیں۔نور عالم خان نے کہا کہ لیڈران کو الیکشن کی فکر ہے لیکن غریب کو روٹی نہیں مل رہی، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے بھی نخرے شروع کردیے ہیں۔رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ بلٹ پروف گاڑی کہاں سے افورڈ کرتا ہے؟ زمان پارک میں نیا گھر کس نے بنا کر دیا ہے؟ کرپشن کے جتنے کیس پکڑتا ہوں عدالتیں اسٹے آرڈر دے دیتی ہیں۔
چیف جسٹس کس قانون کے تحت سپریم کورٹ کا آڈٹ نہیں کروا رہے، نور عالم خان
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عمران خان کو پمز ہسپتال لایا گیا تو کیا صورتحال تھی؟ مزید تفصیلات سامنے آ گئیں
-
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کا فیصلہ قبول کر لیا
-
فرح یوسف نے علیحدگی کے معاملے پر لب کشائی کر دی
-
مصر کے اہرام کیسے تعمیر ہوئے؟سائنسدان راز جاننے میں کامیاب
-
شب برات کی تعطیل کے بارے میں اہم خبر
-
رمضان میں اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی کی تیاری کرلی گئی
-
بیرسٹر گوہر کا اجازت کے باوجود عمران خان سے ملاقات سے انکار
-
کیپٹن (ر)صفدر کا بیٹے کی شادی پر مریم نواز کے ساتھ تصویر نہ بنوانے کے سوال پر دلچسپ جواب
-
سونے کی قیمت میں حیران کن اضافہ
-
آسمان سرخ ہو گیا، دنیا کے لیے وارننگ
-
نئے کرنسی نوٹس کی تیاری آخری مرحلے میں داخل، اسٹیٹ بینک کا بڑا اعلان
-
رمضان سے قبل ملازمین کے الاؤنسز بارے بڑی خوشخبری
-
زلزلے کے جھٹکے، شہریوں میں خوف و ہراس
-
سپریم کورٹ نے کرایہ داری سے متعلق ایک اہم اور حتمی اصول طے کر دیا















































