منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

مویشی منڈیوں میں حیرت انگیزصورتحال،بیوپاری پریشان،انتظامیہ کا کریک ڈاﺅن

datetime 14  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)کراچی کی مویشی منڈی میں جانور زیادہ اور خریدار کم ہیں ، اس صورتحال کے باعث بیوپاریوں کے ساتھ ٹرانسپورٹرز بھی شدید پریشانی سے دوچار ہیں۔عید قرباں میں محض دس روز ہی باقی بچے ہیں مگر سپر ہائی وے پر قائم ایشیا کی سب سے بڑی عارضی مویشی منڈی میں بیوپاری اب بھی خریداروں کی راہ تک رہے ہیں ، منڈی میں پونے دولاکھ گائے بیل اور تیس ہزار بکرے تو موجود ہیں مگر گاہک نایاب۔ اس صورتحال کے باعث منڈی میں جانوروں کے ٹرانسپورٹرز بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ کراچی سمیت ملک کے دیگر علاقوں سے سیزن کمانے آئے سوزوکی والوں کو منڈی کے داخلے کے لیے دو سے ڈھائی سو روپے فی پھیرا انتظامیہ کو ادا کرنا پڑتا ہے ، مگر بدلے میں ملتی ہیں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور انتطامی اہلکاروں کی بدسلوکی۔جانور بہت ، بار برداری کی گاڑیاں بھی بے شمار ، مگر گاہک غائب ، یہی وجہ ہے کہ روزی کمانے منڈی میں آئے ٹرانسپورٹرز کا زیادہ وقت سوتے ہی گذرتا ہے۔ کراچی مویشی منڈی کی انتظامیہ منڈی کے اطراف واقع سڑکوں پرجانور فروخت کرنے والوں پر چڑھ دوڑی۔ غیر قانونی طور پر فروخت کے لیے لائے گئے 200 سے زائد بکرے اور دنبے ضبط کر لیے ہیں۔سپر ہائی وے پر واقع مویشی منڈی میں کھڑے یہ بکرے بکنے کے لیے نہیں ،بلکہ انہیں منڈی کے اطراف غیر قانونی طور پر فروخت ہوتے ہوئے ضبط کرکے یہاں رکھا گیا ہے،بکروں کی بازیابی کے لیے بیوپاری رات سے ہی یہاں موجود ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منڈی میں فروخت کے لیے فی بکرا چھ سو روپے فیس مقرر ہے ، اب ان بیوپاریوں کو فیس بھی دینی پڑے گی اور جرمانہ بھی۔

مزید پڑھئے:مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے فیصلے کا اعلان کردیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…