منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

افغانستان میں غزنی جیل پر طالبان کا حملہ، 350 سے زائد قیدی فرار

datetime 14  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)افغانستان کے وسطی شہر غزنی میں جیل پر طالبان کے حملے میں کم از کم چار پولیس اہلکار ہلاک اور 350 سے زائد قیدی فرار ہوگئے ہیں۔افغان حکام اور طالبان ذرائع نے تین حملہ آوروں کی بھی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔غزنی صوبے کے نائب صوبائی گورنر محمد علی احمدی نے بی بی سی کوبتایا کہ حملہ پیر کی علی الصبح کیا گیا۔یہ جیل غزنی شہر سے پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔محمد علی احمدی کا کہنا تھا کہ حملہ آور بے حد منظم تھے اور انھوں نے فوجی یونیفارم پہنچ رکھا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ایک حملہ آور نے جیل کے ایک دروازے ہر خود کو دھماکے سے آڑا لیا جس کے بعد دیگر حملہ آورں نے جیل کے دروازے توڑ دیے۔طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔نائب گورنر کے مطابق حملے میں سات پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فرار ہونے والی قیدی کون تھے اور وہ کہاں گئے ہیں۔نائب گورنر کے مطابق حملے میں سات پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔مقامی حکام نے بی بی سی افغان سروس کو بتایا کہ حملہ آوروں کے جیل میں داخل ہونے کے بعد ان کے فوجی لباس کے باعث قیدیوں کو ابتدائی طور پر یہ احساس نہیں ہوا کہ حملہ آور طالبان ہی ہیں۔خیال رہے کہ افغانستان میں اس سے قبل بھی جیلوں پر اسی نوعیت کے حملے کیے جا چکے ہیں۔ سنہ 2011 میں قندھار میں تقریباً 500 طالبان جنگجو جیل میں کئی سو میٹر سرنگ کھود کر فرار ہوئے تھے۔جبکہ جون 2008 میں قندھار کی سرپوسا جیل میں خودکش حملے کے بعد 900 قیدی قرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔



کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…