جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

اے پلس کیٹیگری میں صرف ڈومیسٹک پرفارمرز رکھے جائیں، کامران اکمل

datetime 19  ستمبر‬‮  2021 |

لاہور (این این آئی)قومی کرکٹر کامران اکمل نے اے پلس کیٹیگری میں صرف ڈومیسٹک کرکٹ کے پرفارمرز کو شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اتنے بڑے ادارے میں اتنے بڑے بڑے لوگ بیٹھے ہیں، انہیں پالیسی بنانی چاہیے اور اس پر عمل بھی کرنا چاہیے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل نے کہا کہ اے پلس کیٹیگری ڈومیسٹک کرکٹرز کے لیے

بنائی گئی تھی، اس میں صرف ڈومیسٹک کھیلنے والے پرفارمرز ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ اے پلس کیٹیگری میں ڈومیسٹک نہ کھیلنے والوں کو شامل کرنا زیادتی ہے، اتنے بڑے ادارے میں اتنے بڑے بڑے لوگ بیٹھے ہیں، انہیں پالیسی بنانی چاہیئے اور اس پر عمل بھی کرنا چاہیئے۔کامران اکمل نے کہا کہ مجھ سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے کنٹریکٹ دینے سے قبل رابطہ کیا تھا، میں نے سینیارٹی کی بنیاد پر ڈومیسٹک کنٹریکٹ کا کہا تھا، میں نے اپنے تجربے اور پرفارمنس کے لحاظ سے اے پلس کیٹیگری کا کہا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ سینئر کھلاڑیوں کو عزت دینی چاہیئے، یہ ہمارا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ رمیز راجہ نے چیئرمین بننے کے ساتھ ہی بہت اچھے فیصلے کیئے ہیں، خوشی اس بات کی ہے کہ کھلاڑیوں کے پیسے بڑھائے گئے ہیں، لیکن 192 ڈومیسٹک کرکٹرز کے علاوہ بھی ہزاروں کرکٹرز کے بارے سوچنا ہو گا، ہزاروں کرکٹرز کا یہ روز گار ہے۔وکٹ کیپر اعظم خان کی ٹیم میں شمولیت کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں کامران اکمل نے کہا کہ جسے کھلانا ہوتا ہے راستے بنا لیئے جاتے ہیں اور پھر ادھر ادھر نہیں دیکھا جاتا۔انہوں نے کہا کہ روحیل نذیر کو پہلے ساتھ رکھا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ بھی ساتھ لے کر گئے، اب ہوم سیریز آئی تو بلایا نہیں، کھلاڑیوں کو کنفیوز کیا جا رہا ہے، ایسے مثبت کرکٹ نہیں کھیلی جا سکتی۔کامران اکمل نے کہا کہ کھلاڑیوں کو این او سی دینے کے لیے یکساں پالیسی بنانی چاہیئے، لیگ کے درمیان سے کھلاڑیوں کو بلانے سے جگ ہنسائی ہوتی ہے اور پھر آئندہ کے معاہدوں کے لیے مشکل بھی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ محمد حفیظ کے معاملے میں بہتر انداز میں فیصلہ کیا جا سکتا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…