دنیا میں کوئی خونی رشتہ دار نہیں، ایک یتیم بچے سے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین تک کا سفر

  جمعہ‬‮ 25 ‬‮نومبر‬‮ 2022  |  16:11

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا دنیا میں کوئی خونی رشتہ دار نہیں۔ پاکستان آرمی کے ڈسپلن سے ایک یتیم جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا چیئرمین بن گیا۔روزنامہ جنگ میں شائع حنیف خالدکی رپورٹ کے مطابق ساحر شمشاد مرزا تحصیل و ضلع چکوال کے گائوں ملہال مغلاں میں پیدا ہوئے۔

جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے اُنکے والدین دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ذاتی محنت‘ وطن کی خدمت اور لگن کے جذبے کے ساتھ خود پڑھا۔ جب پی ایم اے لانگ کورس کیلئے ہائوس ایڈریس لکھنا پڑا تو اُنہوں نے یونٹ کا ایڈریس لکھوا دیا۔ اُن کا کوئی بہن بھائی اس دنیا میں نہیں۔ انکی مرزا فیملی نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دیں۔ اُنہوں نے جب آرمی جوائن کی تو بدقسمتی سے اس وقت اُنکے والدین دنیا میں نہیں تھے۔ وہ ایک یتیم بچے کے طور پر پلے بڑھے‘ انکے والد اُس وقت اللہ کو پیارے ہو گئے جب ساحر شمشاد مرزا صرف 8برس کے تھے۔ آپ کے والد کے اللہ کو پیارے ہونے کے بعد اُنکی والدہ نے اُنہیں پڑھایا۔جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے نئے چیئرمین جنرل ساحر شمشاد مرزا ہلال امتیاز ملٹری پاکستان آرمی کے فور سٹار رینکنگ میں دوسرے نمبر پر ہیں اور 27نومبر 2022ء اتوار کو 18ویں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ سنبھال رہے ہیں۔ وہ 1987ء میں سروس میں آئے اور 8ویں سندھ رجمنٹ کے کمانڈنٹ بنے۔وہ ٹین کور راولپنڈی کو کمانڈ کر رہے ہیں۔ پاکستان آرمی کے وائس چیف آف جنرل سٹاف‘ ایڈجوٹینٹ جنرل اور چیف آف جنرل سٹاف کے عہدوں پر رہے ہیں۔ انکی یونٹ 8سندھ رجمنٹ ہے۔ انہیں 2018ء میں ہلال امتیاز ملٹری‘ کریسنٹ آف ایکسی لنس کا اعلیٰ اعزاز ملا۔سیاچن گلیشیر Claspجنرل سروس میڈل تمغہ دفاع سے نوازا گیا۔ 1998ء میں تمغہ بقاء (نیوکلیئر ٹیسٹ میڈل) دیا گیا۔ 2002ء میں تمغہ استقلال پاکستان انڈیا کے ساتھ کشیدگی کا مقابلہ کرنے کا میڈل دیا گیا

2018ء میں جنرل ساحر شمشاد مرزا کو تمغہ عزم (میڈل آف کنوکشن) ملا جو اُنکی دس سالہ خدمات کے اعتراف میں دیا گیا جبکہ بیس سالہ سروس میڈل پھر پینتیس سالہ سروس میڈل جمہوریت (ڈیموکریسی میڈل) دیئے گئے۔جنرل ساحر شمشاد مرزا کو 1990ء میں قرارداد پاکستان تمغہ (گولڈن جوبلی میڈل آف قرارداد پاکستان) سے نوازا گیا۔ تمغہ سالگرہ پاکستان گولڈن جوبلی میڈل 1997ء میں دیا گیا۔

کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ انسٹرکٹر میڈل‘ یونائیٹڈ نیشنز (UNOMSIL) میڈل عطا کیا گیا۔جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاکستان ملٹری اکیڈمی میں ٹریننگ لینے کے بعد سندھ رجمنٹ میں آرمی کیریئر کا آغاز کیا اور وہ 2015ء سے 2018ء تک سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کے دور میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے عہدے پر فائز رہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشنز کی نگرانی کی۔افغانستان کے ساتھ مذاکرات کی مانیٹرنگ کرنے والے کوآرڈنیشن گروپ کا حصہ رہے۔ وہ گلگت بلتستان اصلاحات کمیٹی کے ممبر کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی ملنے کے بعد ساحر شمشاد مرزا کو 2018ء میں وائس چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر متعین کیا گیا۔

اس سے ایک سال پہلے اُن کو چیف آف دی جنرل سٹاف کے عہدے پر فائز کیا گیا۔جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین کا نیا عہدہ ملنے کے وقت وہ کور کمانڈر راولپنڈی کی حیثیت سے آزاد کشمیر‘ گلگت بلتستان اور لائن آف کنٹرول پر طویل سرحدی ایریاز کے کور کمانڈر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

فور سٹار جنرل کی میرٹ لسٹ میں وہ دوسرے نمبر پر ہیں۔اسکے علاوہ انہوں نے گیریژن آفیسر کمانڈنگ انفنٹری ڈویژن اوکاڑہ کی حیثیت سے ملک و قوم کی خدمت کر رکھی ہے اور کچھ عرصے تک وہ جنرل ہیڈ کوارٹرز کے ایجوٹینٹ جنرل بھی رہے۔ وہ 27نومبر 2022ء کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ سنبھال رہے ہیں۔اس عہدہ جلیلہ پر تقرری سے قبل وہ کور کمانڈر اور اس سے قبل 34ویں چیف آف جنرل سٹاف بنے تھے۔

انکے پیشرو جنرل اظہر عباس اس عہدے پر فائز تھے۔جنرل ساحر شمشاد مرزا فروری 2015ء سے ستمبر 2015ء تک گریژن آفیسر کمانڈنگ 40انفنٹری ڈویژن کی حیثیت سے کام کیا۔ انکی جگہ میجر جنرل عابد ممتاز کی تعیناتی ہوئی۔مرحوم لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کے بعد میجر جنرل کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے اور انہوں نے اپنے عہدے کا چارج میجر جنرل نعمان ذکریا کے حوالے کیا۔

اکتوبر 2018ء سے جون 2019ء تک وائس چیف آف جنرل سٹاف رہے۔جون 2019ء سے نومبر 2019ء تک ایجوٹینٹ جنرل کے عہدے پر فائز رہے۔ انکے پیشرو لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ہیں جبکہ انکے جانشین لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر ہیں۔ جون 2019سے ستمبر 2021ء تک وہ چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر تعینات رہے۔ اس عہدے پر انکے پیشرو موجودہ جنرل اور چیف آف جوائنٹ سٹاف کے چیئرمین ندیم رضا ہیں۔

انکے جانشین لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس بنے۔ ستمبر 2021ء میں انہیں ٹین کور راولپنڈی کا کمانڈر بنایا گیا ہے جو وہ 27نومبر کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا عہدہ سنبھالنے پر چھوڑیں گے۔جنرل ساحر شمشاد مرزا اکتوبر 1987ء میں سیکنڈ لیفٹیننٹ‘ اکتوبر 1989ء میں لیفٹیننٹ‘ اپریل 1991ء میں کیپٹن‘ مئی 1996ء میں میجر‘

اپریل 2024ء میں لیفٹیننٹ کرنل‘ ستمبر2010ء میں کرنل‘ ستمبر 2012ء میں بریگیڈیئر‘ 2015ء میں میجر جنرل‘ اپریل 2019ء میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدوں پر ترقی پائی۔ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کی فور سٹار جنرل کے عہدے پر تعیناتی ایک یتیم بچے کی پوری زندگی کی جدوجہد کا آئینہ دار ہے۔



زیرو پوائنٹ

اب تو آنکھیں کھول لیں

یہ14 جنوری کی رات تھی‘ پشاور کے سربند تھانے پر دستی بم سے حملہ ہو گیا‘ دھماکا ہوا اور پورا علاقہ لرز گیا‘ وائر لیس پر کال چلی اور ڈی ایس پی سردار حسین فوری طور پر تھانے پہنچ گئے‘ ان کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ تھے‘یہ لوگ گاڑی سے اترے‘ چند قدم لیے‘ دور سے فائر ہوا‘سردار ....مزید پڑھئے‎

یہ14 جنوری کی رات تھی‘ پشاور کے سربند تھانے پر دستی بم سے حملہ ہو گیا‘ دھماکا ہوا اور پورا علاقہ لرز گیا‘ وائر لیس پر کال چلی اور ڈی ایس پی سردار حسین فوری طور پر تھانے پہنچ گئے‘ ان کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ تھے‘یہ لوگ گاڑی سے اترے‘ چند قدم لیے‘ دور سے فائر ہوا‘سردار ....مزید پڑھئے‎