جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کے بیان پر انکے اپنے حامی بھی کافی پریشان ، آنیوالے دنوں میں کپتان کیساتھ کیا ہوسکتا ہے؟حامد میرنے بتا دیا

datetime 6  ستمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی حامد میر نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا  ہے کہ عمران خان نے دو دن پہلے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کو خراج تحسین پیش کیا تھا کہا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک ٹی وی چینل پر جو پیمرا کی پابندی ہے اس کو ختم کیا ہے۔تو عمران خان نے جس ہائی کورٹ کو عوام کے سامنے خراج تحسین پیش

کیا اسی ہائی کورٹ نے ان کا کل کا جو ایک بیان ہے اس کے بارے میں کچھ سوالات اٹھائے ہیں۔ عمران خان کا جو بیان ہے اس پر ان کے اپنے جو حامی ہیں وہ بھی کافی پریشان ہیں۔ کیوں کہ انہوں نے پبلک میٹنگ میں پاکستان کی قومی سلامتی کے ادارے کے بارے میں ایسا بیان دیاہے جس کے بارے میں اس ادارے کے جو اعلیٰ افسران ہیں ان کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔آرٹیکل19 میں آزادی اظہار کوتحفظ دیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں اس میں ایک اہم ترین شرط یہ ہے کہ آپ اپنی آزادی اظہار کواس طریقے سے استعمال کریں گے پاکستان کی جو سیکورٹی ہے اس کے بارے میں آپ کوئی مسئلہ پید انہ کریں نہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی زد پڑے۔تو آزادی اظہار پر ذمہ داری کا جو تصور ہے اس کو سامنے رکھ کر سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ دیا تھا اور پیمرا کو ہدایات دی تھیں ۔عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے پابندی ہٹانے جانے کے بعد ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا لہٰذا اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا جو فیصلہ ہے اسی کی روشنی میں پیمرا دوبارہ ریگولیٹ کرے۔ پیمرا جب اس کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات پر عملدرآمد کرے گا تو یہ ممکن ہے کہ دوبارہ سے عمران خان کی لائیو تقریر پر پابندی لگ جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…