پولیس کے لیگی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے، لاہور ہائی کورٹ نے بڑا حکم دے دیا

  ہفتہ‬‮ 13 اگست‬‮ 2022  |  20:30

لاہور(این این آئی)لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پولیس کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے خلاف غیر قانونی کارروائی سے روک دیا ہے، لاہور پولیس نے 25مئی کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ اور مرکزی رہنما

رانا مشہود احمد خان کی رہائشگاہوں پر چھاپے مارے تاہم ا ن کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔بتایا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے عطا اللہ تارڑ کی تھانے میں طلبی کا نوٹس بھی بھجوایا گیا ہے۔پولیس کی جانب سے گھر پر مارے گئے چھاپے پر لیگی رہنما عطا اللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہاشم ڈوگر صاحب میرا خیال تھا آپ وزیر داخلہ ہیں،آپ تو انتہائی غیر سنجیدہ کردار نکلے۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ جس گھر میں 15سال پہلے رہتا تھا وہاں پولیس بھیج کر کسی راہگیر کو ہراساں کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں، یہ حال ہے آپ کا، خاک وزارت چلانی ہے آپ نے، ملک دشمن بیانیے کے دفاع میں اتنا آگے نہ جائیں۔پولیس کی جانب سے رانا مشہود کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا تاہم رانا مشہود اپنی فیملی کے ہمراہ اسلام آباد میں موجود تھے۔ رانا مشہود کے مطابق پولیس نے رات گئے میرے گھر پر چھاپہ مارا،میں اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، پنجاب حکومت کی ایماء پر پولیس اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صفدر سلیم شاہد نے پنجاب پولیس کو لیگی رہنما رانا مشہود، عطا تارڑ اور ملک احمد خان کو ہراساں کرنے سے روکتے ہوئے آئی جی پنجاب سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر رکھا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ لیگی رہنماؤں کے خلاف غیر قانونی کارروائی نہ کی جائے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎