انہوں نے ہماری پارٹی توڑنے کا پلان بنا یاہوا ہے، عمران خان کا تہلکہ خیز دعویٰ

  بدھ‬‮ 10 اگست‬‮ 2022  |  19:34

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو فوج سے لڑوانے کی سازش ہورہی ہے ، شہباز گل نے جو کہا اگر قانون کیخلاف تھا تو اس پر چارج لگائیں اورعدالت میں صفائی پیش کرنے کا موقع ملے، میری حکومت گرانے پر اسرائیل اور بھارت میں خوشی منائی گئی،بھارت کا میڈیا دیکھیں تو لگتا ہے

ان کا ہی پرائم منسٹر بن گیا،فارن فنڈنگ کیس میں کچھ بھی نہیں ، لوگوں نے ہمیں پیسے دئیے اور ہمارے پاس آڈٹ بک موجود ہیں، باقی جماعتوں کے پاس کدھر سے پیساآیاان کے پاس بتانے کو کچھ نہیں،، آصف زرداری نے 3اور نوازشریف نے ایک گاڑی توشہ خانہ سے لی،نہیں پتا ڈرون حملے کیلئے پاکستان کی حدود استعمال ہوئی کہ نہیں، خیبرپختونخوا میں ہمارے وزیروں کو کالعدم ٹی ٹی پی سے دھمکی مل رہی ہیں،اسٹریٹ پاور ہے ،ہم پورے پاکستان کو بند کرسکتے ہیں۔ منگل کو یہاں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پریس کانفرنس ے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بیرونی سازش کے تحت ہماری حکومت کو ہٹایا گیاتھااور ان کے ساتھ جو لوگ ہیں جن کو میں میر جعفر او میر صادق کہتا ہوں انہوں نے ملک کر ہماری حکومت کو گرایا، ہماری حکومت جانے سے بھارت اور اسرائیل میں خوشیاں منائی گئیں۔انہوںنے کہاکہ اس خوفناک سازش میں منصوبہ بنا ہوا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کو فوج سے لڑا دیا جائے، ہمیں ایسا پیش کیا جائے گا کہ ہم ایک دوسرے کے مخالف ہیں، یہ منصوبہ بندی سے کرایا جارہا ہے، ہماری حکومت جب چل رہی تھی تو سب سے پہلے بھارت سے تنقید آتی تھی کہ عمران خان کو پاکستانی فوج لے کر ائی ہے اور یہ ان کا پتلا ہے۔عمران خان نے کہا کہ مسلسل ان کو تکلیف تھی کہ حکومت اور فوج ایک ہی پیج پر ہے، آپ کا یاد ہو یہ نا ہو، ہمارے جنونی نواجونوں نے یورپین یونین کی ڈس انفارمیشن لیب کو بے نقاب کیا، اس میں تقریبا 800 فیک سائٹس تھیں، یہ ویب سائٹس مسلسل پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی تھیں، جس میں پاکستان کے کئی صحافی بھی شامل تھے اور وہ لوگ بھی شامل تھے جو آج اب موجودہ حکومت کے ساتھ نظر آتے تھے، یہ لوگ مجھ پر اور پاکستان فوج پر اٹیک کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جب ممبئی میں حملے ہوئے تھے تو آصف زرداری نے بیان دیا تھا کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو ممبئی بھیجا جائے، یہی آصف زرداری حسین حقانی کے ذریعے امریکیوں کو میسیج بھیجتا ہے کہ آصف زاردی کو پاکستان کی فوج سے بچوائیں، دوسری طرف نواز شریف نے ممبئی حملوں کے بعد انٹرویو میں بتایا کہ وہ لڑکا پاکستان سے تھا جس نے حملہ کیا،

پہلے ہی پاکستان کے خلاف بہت بڑی مہم چلی ہوئی تھی جس میں آئی ایس آئی اور پاک فوج کو ٹارگٹ کیا جارہا تھا۔انہوںنے کہاکہ ڈان لیکس ہوئی تھی جس میں کہا گیا کہ نواز شریف اور اس حکومت کہتی ہے کہ بھارت کے خلاف جو دہشت گردی ہو رہی ہے اس میں پاکستان کی آئی ایس آئی اور پاکستان کی فوج ملوث ہے، اور نریندر مودی بار بار پاکستان کے سابق سپہ سالار جنرل راحیل شریف کو دہشت گردوں کا سردار کہتے تھے،

اور نواز شریف اسی نریندر مودی کو شادی پر بلارہا تھا۔عمران خان نے کہا کہ کھٹمنڈو میں کانفرنس میں بھارت کی صحافی برکھا دت اپنی کتاب میں لکھتی ہے کہ نواز شریف چھپ کر نریندر مودی سے ملاقات کر رہا تھااور کہہ رہا تھا کہ مجھے فوج سے بچائیں، یہ لوگ آج ہمیں کہہ رہے ہیں کہ ہم غدار ہیں، ان لوگوں کے اربوں ڈالر باہر پڑے ہیں، ان کی کرپشن کی داستانیں بیرون ملک کتابوں میں بھی لکھی گئی ہیں،

بی بی سی کی ڈاکومینٹری میں بھی ان کی چوری کا ذکر ہے۔پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ آج یہ بتایا جارہا ہے کہ ہم لوگ فوج کے خلاف ہیں جبکہ یہ لوگ محب وطن پاکستانی بن گئے ہیں جو آ کر ہمیں غدار کہہ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سازش اتنی خطرناک ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کو اپنی فوج کے سامنے کھڑا کر دیں اور ان کے اندر اختلافات پیدا کر دیں، اس سے زیادہ ملک کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

عمران خان نے کہا کہ میں 18 برس سے بھی کم عمر میں مارچ 1970 میں مشرقی پاکستان میچ کھیلنے گیا، میرے اپنے فرسٹ کزن بریگیڈئیر شفیق کے ساتھ ٹھہرا ہوا تھا، تب مجھے پتا چلا کہ بنگلا دیش کی سب سے بڑی جماعت اور فوج کے اندر کتنی نفرت پھیل چکی تھی، اس کے بعد ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا ملک ٹوٹا، سب سے بڑی جماعت اور فوج کے بیچ میں جو ہوا یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے افسوسناک واقعہ ہے کہ

پاکستان ٹوٹ گیا، آج وہی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک جماعت ہے جو فیڈرل لیول کی پارٹی ہے اور تمام صوبوں میں موجود ہے جبکہ سب سے بڑا ووٹ بینک بھی اسی جماعت کا ہے، یہ ان کی طرف سے سازش کی جارہی ہے جو ہمارے حکومت گرانے میں ملوث تھے۔انہوںنے کہاکہ 25 مئی کو ہمارے خلاف جس طرح کا ظلم کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی، رات کو 2، 2 بجے گھروں میں گھسے،

اور ان سب کا ایک ہی سوچ تھی کہ ان کی جماعت کو کرش کر دو، ان کے ممی ڈیڈی ٹائپ لوگ ہیں، جب ان کو ڈرائیں گے یہ لوگ گھروں میں بیٹھ جائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے ہمیں ہرانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا لیکن پاکستان کی تاریخ میں اس طرح عوام کبھی عام انتخابات بھی نہیں نکلے جس طرح اس ضمنی انتخابات میں نکلے، اس طرح ان لوگوں کیسارے منصوبے ناکام ہو گئے، ساری جماعتوں نے مل کر الیکشن لڑا اور ان کا پنجاب سے صفایہ ہو گیا،

اس کے بعد ان لوگوں کو اور خوف آ گیا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اب یہ لوگ کوشش کرر ہے ہیں کہ کسی طرح ہماری اور فوج کی لڑائی شروع ہو جائے، دوسری چیز ان لوگوں نے پورا پلان بنایا ہوا ہے کہ ہماری جماعت کو توڑا جائے۔انہوںنے کہا کہ اس کیلئے الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ دیا، اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے، یہ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ جب بیرون ملک پاکستانی پیسہ بھیجتے ہیں تویہ فارن فنڈن ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی جماعت نے باقاعدہ فنڈ ریزنگ کی ہے،

ایسی جماعتیں جن کے سربراہوں کو لوگ کرپٹ سمجھتے ہیں وہ کبھی فنڈ ریزنگ نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت نے 2012 میں 40 ہزار ڈونرز کے نام دئیے ہوئے ہیں، ان میں سے کئی پاکستانیوں کو غیر ملکی بنا دیا، وہ پارٹی جس نے فنڈ ریزنگ کی اور جس کی ساری آڈٹ رپورٹس ہیں، جس کی ایک ایک چیز الیکشن کمیشن کو دی ہے اس پارٹی پر سارا نزلہ گر رہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ میں کیوں چاہتا ہوں کہ تمام سیاسی جماعتوں کی فنڈ ریزنگ کا آڈٹ ایک ساتھ کریںکیونکہ مجھے پتا ہے

ہم نے کیسے پیسہ جمع کیا ہے، ہمارے پاس ان کی کتابیں تیار ہیں جبکہ ان دو جماعتوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، ان کے پاس کوئی آڈٹ رپورٹ بھی نہیں ہے، الیکشن کمیشن عدالتی حکم کے باوجود تحریک انصاف کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے اور اس میں ایسی جھوٹی چیزیں لکھی ہیں کہ جس دن اس پر عدالت میں صحیح معنوں میں تفتیش ہوگی میں چیلنج کرتا ہوں کہ یہ ثابت ہوگا

کہ ایک جماعت نے اس ملک صحیح معنوں میں پیسے اکھٹے کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہماری جماعت پر پابندی لگانے کی کوشش کررہی ہے اور یہ وہی سازش کا حصہ ہے کیونکہ یہ انتخابات میں اب ہرا نہیں سکتے، انہوں نے عارف نقوی کا نام لے لیا، پاکستان کا رائزنگ اسٹار تھا، وہ تیزی سے اوپر جا رہا تھا، ہم نے کے الیکٹرک کی نجکاری نہیں کی،

ان دونوں جماعتوں کی حکومت میں نجکاری کرکے اس کے الیکٹرک دی گئی تھی، اس پر 2018 میں الزامات عائد ہوئے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ میں کتابیں پڑھ کا تصدیق نہیں کرتا، یہ عمل نیچے سے شروع ہوتا ہے پہلے فنانس ڈیپارمنٹ کرتا ہے، اس کے بعد وہ آڈیٹر کے ساتھ بیٹھے ہیں، پھر وہ رپورٹ پارٹی کی مینجمنٹ کمیٹی کے پاس جاتی ہے، جب مینجمنٹ کمیٹی کلیئر کرتی ہے تو میرے پاس آتی ہے،

میں اس کے بعد دستخط کرتا ہوں جبکہ میں اپنے اثاثے ڈکلیئر کرتا ہوں تو اس پر حلف نامہ دیتا ہوں کیونکہ اس کو میں دیکھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایک توشہ خان کا کیس ہے، جو اس ملک کے صدر اور وزیر اعظم بنے ہیں، اسی طرح آرمی چیف اور جو لوگ اس ملک میں بڑے بڑے عہدوں پر رہے ہیں سب کو تحفے ملتے ہیں، سب کو ملنے والے تحفوں کے حوالے سے تفتیش کریں کہ کیا

انہوں نے جو بھی کام کیا ہے قانونی کے دائرے میں کیا ہے یا کوئی چیز غیر قانونی کی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مجھے پتا ہے کہ میں نے اس حوالے سے تمام چیزیں قانون کے دائرے میں رہ کر کی ہیں، آصف زرداری نے توشہ خانہ سے تین گاڑیاں لی ہیں جو آپ نہیں لے سکتے، مجھے بھی ایک گاڑی ملی تھی تاہم توشہ خانہ سے گاڑی نہیں لے سکتے، اسی طرح نوازشریف نے توشہ خانہ سے ایک گاڑی لی ہے

یہ غیر قانونی ہے، مجھے یہ لوگ ان دو چیزوں میں نااہل کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تیسری فیز بھی آپ کے سامنے آنے والا ہے، ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح عمران خان کی کردار کشی کی جائے کیونکہ ایک طریقہ پارٹی کو ختم کرنے یا نااہل کروانے کا مشکل ہے،

دوسرا ہے کہ عمران خان کی کردار کشی کرکے اس کو کسی کیس میں پھنساؤ۔سابق وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ کردارکشی کے لیے ان کو پتا ہے کہ کون سے میڈیا ہاؤسز ان کے ساتھ پوری طرح تعاون کریں گے، یہ جو اے آر وائے کے اوپر انہوں نے ایکشن لیا ہے، یہ اسی پلان کا حصہ ہے کہ کوئی چینل جو میرا مؤقف رکھے اس کو بند کر دو، جو یوٹیوبر میرا مؤقف رکھیں

ان کے منہ بند کردو، اتنا خوف پھیلا دو کہ کوئی میر مؤقف ہی نہ رکھے۔انہوںنے کہاکہ یہ لوگ اب سوشل میڈیا پر آئیں گے اور یہ کوشش کریں گے کہ کسی طرح عمران خان کو عوام میں ذلیل کیا جائے، میرا ایمان ہے کہ عزت صرف اللہ دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنہوں نے ہماری حکومت گرائی ہے کیا وہ مضبوط چاہتے ہیں، کیا وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان لائف سپورٹ مشین پر رہے، ان کو تھوڑے تھوڑے پیسے دیتے رہو،

مجھے نہیں پتا کہ پاکستان کی زمین استعمال ہوئی یا نہیں تاہم غیر ملکی اخبار کہہ رہے ہیں کہ کوئی ڈیل ہوئی ہے پاکستان کے اوپر سے جا کر افغانستان میں ڈرون اٹیک کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیاں دیکھ رہے ہیں اور حملے کر رہے ہیں، ہمارے ایم پی ایز بتا رہے ہیں کہ انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں،

اس پر بھی مجھے حیرت ہے کہ یہاں تو وہ حکومت ہے جو آزاد پاکستان چاہتی ہے تو اس کو کیوں ٹارگٹ کیا جارہا ہے مجھے اس میں بھی سازش نظر آ رہی ہے۔عمران خان نے کہا کہ ڈاکٹر شہباز گِل نے جو کہا اگر وہ قانون کے خلاف ہے تو وہ بڑا آسان ہے، پاکستان کا آئین ایک طریقہ کار بتاتا ہے کہ اس پر چارج لگائیں اس کو موقع دیں کہ عدالت میں جا کر اپنی صفائی پیش کرے، اس کوجس طرح اٹھایا،

اس کی گاڑی کے شیشے توڑ دیے، اس کے ڈرائیور کو مارا گیا، پتا ہی نہیں کہ کدھر غائب ہو گیا، ہم ڈھونڈ رہے ہیں کہ کہاں چلے گئے، ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے، ہم لوگوں کو اس ملک کی زیادہ فکر ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ فوج ملک کا مضبوط ادارہ بنے۔عمران خان نے نوازشریف، مریم نواز، آصف زرداری، فضل الرحمٰن و دیگر رہنماؤں کے ویڈیو کلپ چلائے جس میں اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کی جارہی ہے اور انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کلپس تو دستیاب ہیں ان کے خلاف کیوں قانونی کارروائی نہیں کی گئی؟

چیئرمین عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ہم نے صرف اور صرف پاکستان کا سوچا ہے، ہمارے پاس اسٹریٹ پاور ہے ہم پورے پاکستان کو بند کرسکتے ہیں، ہمارے ملک کے معاشی حالات ایسے ہیں کہ ہمیں ملک کی فکر کرنا چاہیے، اس لیے ہم مظاہرے بھی پْرامن کرتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارے لوگوں کو توڑنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے کہ الیکشن میں کسی طرح یہ لوگ اتنے کمزور ہو جائیں اور پھر انگلینڈ سے نوازشریف آئے اور کہیں کہ دیکھیں عمران خان اور نوازشریف دونوں نااہل ہو سکتے ہیں، پھر الیکشن کروائیں، بنیادی طور پر یہ گیم ہے کہ کسی طرح ہمیں چھوٹا کریں۔انہوںنے کہاکہ ملک کو مشکل سے نکالنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ صاف اور شفاف انتخابات کروائیں۔



زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎