حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ برقرار رکھنے کیلئے ن لیگ کو  20میں سے کتنی نشستیں جیتنا ضروری ہے؟دلچسپ صورتحال

  ہفتہ‬‮ 16 جولائی‬‮ 2022  |  11:46

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے میزبان شاہزیب خانزادہ نے کہا ہے کہ پنجاب میں جن 20نشستوں پر ضمنی انتخابا ت ہونے ہیں،ن لیگ نے ان پر اپنے دیرینہ کارکنوں کی جگہ ان لوگوں کو ٹکٹ دیئے ہیں جنہوں نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر یا آزاد حیثیت میں ن لیگ کو ہرایا تھا، ن لیگ کے کارکنوں اور ووٹرز سپورٹرز میں اس حوالے سے ناراضی پائی جاتی ہے۔

دیکھنا ہوگا کہ اس وجہ سے اتوار کے دن ن لیگ کو کتنا نقصان پہنچتا ہے۔ شاہزیب خانزاہ کاکہنا تھا کہ ضمنی انتخابات میں سب سے دلچسپ مقابلہ پنجاب اسمبلی کے حلقہ PP217ملتان 7میں ہورہا ہے، 2018ء میں یہاں سے شاہ محمود قریشی نے حصہ لیا تھا لیکن وہ حیران کن طور پر آزاد امیدوار سلمان نعیم سے ہار گئے تھے، ضمنی انتخاب میں ن لیگ نے یہاں سے پچھلی بار آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے محمد سلمان کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی کو میدان میں اتارا ہے، آزاد امیدوارسلمان نعیم، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ووٹوں کو ملایا جائے یہاں بھی دلچسپ مقابلہ متوقع ہے، ن لیگ دعویٰ کررہی ہے کہ وہ یہاں ہر حال میں جیتے گی، اسی طرح پی پی 272مظفر گڑھ 5میں 2018ء کے انتخابات میں جیتنے والے سید باسط سلطان کی اہلیہ اس بار ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑرہی ہیں جبکہ تحریک انصاف نے معظم خان جتوئی کو اپنا امیدوار بنایا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی حلقے سے باسط سلطان کے بھائی ہارون سلطان بھی آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہے ہیں اور انہیں ن لیگ کے کچھ ناراض حلقوں کی حمایت بھی حاصل ہے اس لیے ن لیگ کا ووٹ یہاں پر تقسیم ہوسکتا ہے۔ شاہزیب خانزادہ کا مزید کہنا تھا کہ اگر جماعتی بنیادوں اور پارٹی مقبولیت پر ووٹ پڑتا ہے تو تحریک انصاف کو برتری ملنے کا امکان موجود ہے، یہ ضمنی انتخابات بہت دلچسپ ہیں جس میں حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ برقرار رکھنے کیلئے ن لیگ کو 20میں سے 9نشستیں جیتنا ضروری ہے، اگر حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب نہیں رہے تو شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ بھی خطرے میں پڑسکتی ہے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

عمران خان کی جنرل باجوہ سے دو ملاقاتیں

یہ 18 اگست 2022ء کی شام تھی‘ صدر عارف علوی کی صاحب زادی نے رات آٹھ بجے اپنی چند سہیلیوں کو کھانے پر ایوان صدر بلا رکھا تھا لیکن پھر سوا سات بجے فون آیا اور صدر پرائیویٹ کار میں صرف ملٹری سیکرٹری کے ساتھ ایوان صدر سے نکل گئے‘ ان کے ساتھ پروٹوکول اور سیکورٹی کی کوئی گاڑی نہیں ....مزید پڑھئے‎

یہ 18 اگست 2022ء کی شام تھی‘ صدر عارف علوی کی صاحب زادی نے رات آٹھ بجے اپنی چند سہیلیوں کو کھانے پر ایوان صدر بلا رکھا تھا لیکن پھر سوا سات بجے فون آیا اور صدر پرائیویٹ کار میں صرف ملٹری سیکرٹری کے ساتھ ایوان صدر سے نکل گئے‘ ان کے ساتھ پروٹوکول اور سیکورٹی کی کوئی گاڑی نہیں ....مزید پڑھئے‎