پاکستان نے بھارت کی ایک اور مکروہ سازش کو مسترد کردیا

  ہفتہ‬‮ 25 جون‬‮ 2022  |  20:05

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں مبینہ طورپر جی 20ممالک کا اجلاس منعقد کر نے کی بھارتی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ جموں و کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ”متنازعہ“علاقہ ہے،بھارت مقبوضہ

جموں و کشمیر میں وسیع پیمانے پر مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہے، عالمی برادری بھارت سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کا سد باب کرنے کے لیئے 5 اگست 2019 کے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو منسوخ کرنے اور حقیقی کشمیری رہنماؤں سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کرے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہاکہ بھارت کا مقبوضہ جموں و کشمیر میں مبینہ طور پر G20 ممالک کا اجلاس یا تقریب منعقد کرنے سے متعلق خبروں پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کی ایسی کسی بھی کوشش کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ”متنازعہ“علاقہ ہے۔ یہ علاقہ 1947 سے بھارت کے جبری اور غیر قانونی قبضے میں ہے اور یہ تنازعہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں وسیع پیمانے پر مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہے، 5 اگست 2019 کے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد سے اب تک بھارتی قابض افواج نے 639 بے گناہ کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی متعدد رپورٹس جن میں 2018 اور 2019 میں دفتر ہائے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (OHCHR) کی جانب سے مرتب کردہ دو رپورٹس میں بھی کشمیری عوام کے خلاف جاری بھارتی مظالم کی دوبارہ تصدیق کی گئی ہے،اس افسوسناک امر کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلم

کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کا خطے کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ ”متنازعہ“حیثیت کو نظر انداز کرتے ہوئے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں کسی بھی G20 ممالک سے متعلق اجلاس یا کوئی تقریب کے انعقاد پر غور کرنا، ایک خیانت ہے جسے بین الاقوامی برادری کسی بھی صورت قبول نہیں کر سکتی۔ترجمان دفتر خارجہ نے توقع کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ

بھارت کی جانب سے ایسی کسی متنازعہ تجویز کی صورت میں، جو 7 دہائیوں سے جاری غیر قانونی اور جابرانہ قبضے کے لیئے بین الاقوامی قانونی جواز تلاش کرنے کے لیے تیار کی جائے گی، جی 20 کے اراکین قانون اور انصاف کے تقاضوں سے پوری طرح آگاہ ہوں گے اور اسے یکسر مسترد کر دینگے۔ پاکستان عالمی برادری سے بھی پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارت سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف

ورزیوں کا سد باب کرنے کے لیئے 5 اگست 2019 کے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو منسوخ کرنے اور حقیقی کشمیری رہنماؤں سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کرے۔ترجمان نے کہاکہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کا واحد راستہ بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ان کا ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت دینا ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

چھوٹے چھوٹے فیصلے

پشاور میں 30 جنوری کو پولیس لائینز میں خودکش حملہ ہوا‘ یہ حملہ انتہائی خوف ناک تھا‘ 103 لوگ شہید اور 217 زخمی ہو گئے‘ ایسے حملوں کے بعد پوری دنیا میں تفتیش اور تحقیقات شروع ہو جاتی ہیں اور یہ کام ہمیشہ وہ لوگ کرتے ہیں جو علاقے‘ لوگوں اور روایات سے واقف ہوتے ہیں اور جن کے لوکل ....مزید پڑھئے‎

پشاور میں 30 جنوری کو پولیس لائینز میں خودکش حملہ ہوا‘ یہ حملہ انتہائی خوف ناک تھا‘ 103 لوگ شہید اور 217 زخمی ہو گئے‘ ایسے حملوں کے بعد پوری دنیا میں تفتیش اور تحقیقات شروع ہو جاتی ہیں اور یہ کام ہمیشہ وہ لوگ کرتے ہیں جو علاقے‘ لوگوں اور روایات سے واقف ہوتے ہیں اور جن کے لوکل ....مزید پڑھئے‎