اسد عمر کے اپنے بھائی محمد زبیر پر الزامات

  جمعہ‬‮ 24 جون‬‮ 2022  |  14:29

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/آن لائن )نجی ٹی وی پروگرام میں سینئر اینکر پرسن کامران شاہد نے ن لیگ کے رہنما محمد زبیر سےسوال کیا کہ اسد عمر صاحب بھی کل کہہ رہے تھے کہ ن لیگ کے رہنمائوں نے امریکا ایمبیسی کے اندر ہماری حکومت کو گرانے کیخلاف ملاقاتیں کی ہیں۔ کامران شاہد کا کہنا تھاکہ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ بھی ان میں شامل تھے ’’ آپ بھی ان ممبران میں سے ہیں

جنہوں نے امریکن ایمبیسی میں امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں، یہ کیا ملاقاتیں تھیں کیا امریکا آپ کو کہہ رہا تھا کہ آپ اس حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لے کر آئیں ؟آپ سے متعلق کیا کہیں گے ؟ ۔ اس کے جواب میں سینئر لیگی رہنما محمد زبیر کا کہنا تھا کہ میں ان تمام باتوں کے جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا جب تحریک عدم اعتماد آرہی تھی یہ امریکن سے ملاقاتوں کا الزام لگ رہے تھے، اس وقت تین چار ملاقاتوں کا ذکر کیا گیاکہ کون کون سےن لیگ کے رہنما ملتے رہے ہیں ۔ لیگی رہنما محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ایک ڈنر احمد جواد صاحب کی طرف سے دیا گیا جنہوں نے پارٹی چھوڑ دی تھی ، اس میں تقریباً ستر سے اسی لوگ تھے ان میں صحافی حضرات بھی تھے اس میں کچھ سیاستدان بھی تھے ، میں ، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال نے بھی شرکت کی تھی ، اس میں ڈپلومیٹک کے لوگ بھی تھے ، یہ ڈنر احمد جواد صاحب کے گھر پر تھا ۔ اب اس ڈنر کو رنگ یہ دیا گیا کہ ن لیگ کے رہنما امریکن حکام سے مل رہے ہیں لیکن میں ان تمام الزامات کو مسترد کرتا ہوں ۔ قبل ازیں مرکزی سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف اسد عمر نے کہا ہے کہ کرائم منسٹر کی مدت کا تعین میرجعفروں کا ٹولہ نہیں وہ ہاتھ کریں گے جن کی انگلیوں میں ان کٹھ پتلیوں کی ڈوریاں ہیں،کسی نوعیت کا کوئی بیانیہ ان کرداروں کی ساکھ واپس نہیں لاسکتا جو پردوں سے نکل کر بے حجاب قوم کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی گفتگو پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انسان ’’شہباز شریف‘‘ ہی ہو تو ان خیالات کا اظہار کرسکتا ہے جو کرائم منسٹر صاحب نے اپنی جماعت کے سینیٹرز کے روبرو فرمایا آٹھ ہفتے پہلے تک شہباز شریف کا تعارف امیریکی سازش کے تحت مسند پر بٹھائے

جانے والے وزیراعظم کا تھا ان آٹھ ہفتوں میں عوام مزید دو عدسوں سے شہباز شریف کو دیکھتے اور سنتے ہیں بیرونی سازش کے بعد شہباز شریف کا دوسرا تعارف ایف آئی اے کو مطلوب مجرم کا ہے اچھی بھلی مستحکم اور پھلتی پھولتی معیشت کا بیڑہ محض 8 ہفتوں میں بیڑہ غرق کرکے موصوف نے نالائقی و نااہلیت میں جس درجے کا نام پیدا کیا وہ بھی غیر معمولی ہے

آئی ایم ایف سے جس معاہدے کی شہباز شریف بات کررہے ہیں اس میں تیل 150 روپے فی لیٹر دستیاب تھا آئی ایم ایف کے ساتھ جس معاہدے کا ذکر نالائقِ اعظم کررہے ہیں اس میں معیشت 6% سالانہ کی رفتار سے ترقی کررہی تھی آئی ایم ایف کے جس معاہدے تلے اپنا نکما چھپانے کی شہباز شریف کوشش کررہے ہیں

اس کے تحت بجلی کا یونٹ 8 روپے سستا تھا جس آئی ایم ایف معاہدے کو ڈھال بنا کر عوام سے غلامی کی قیمت وصول کررہے ہیں اس میں گیس 45% سستی تھی جس آئی ایم ایف معاہدے کی گردان بدعنوانِ اعظم کررہے ہیں اس میں ڈالر 179 کا زرِ مبادلہ کے ذخائر ساڑھے سولہ ارب ڈالرز تھے۔

انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کی جانب سے جس آئی ایم ایف معاہدے کو اپنی چوری کی ڈھال بنایا جارہا ہے اس میں زراعت 4% کی ترقی، کسانوں کو 1100 ارب سالانہ اضافی آمدن ہوئی جس آئی ایم ایف معاہدے کا نوحہ نیب و ایف آئی کا یہ ملزم پڑھ رہا ہے اس میں ترسیلات زر 31 ارب ڈالرز

، برآمدات کم و بیش 32 ارب ڈالرز تھیں جس آئی ایم ایف معاہدے کو بھکاری وزیراعظم بھیک مانگنے کا جواز بنا رہا ہے اسی کے دوران 6 ہزار ارب کا ٹیکس جمع کرکے پاکستان تیزی سے خودکفالت کی جانب بڑھ رہا تھا ۔انہوں نے مزید کہاکہ کرائم منسٹر کی مدت کا تعین میرجعفروں کا ٹولہ نہیں وہ ہاتھ کریں گے

جن کی انگلیوں میں ان کٹھ پتلیوں کی ڈوریاں ہیں کسی نوعیت کا کوئی بیانیہ ان کرداروں کی ساکھ واپس نہیں لاسکتا جو پردوں سے نکل کر بے حجاب قوم کے کٹہرے میں کھڑے ہیں،ہوش و عقل کے آثار باقی ہیں تو یہ بیہودہ پتلی تماشا لپیٹ کر صاف شفاف انتخابات کی جانب ملک کو لیکر جایا جائے .



زیرو پوائنٹ

چودھری برادران میں پھوٹ کیسے پڑی؟

میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’خاندان میں اختلافات کہاں سے شروع ہوئے؟‘‘ ان کا جواب تھا’’جائیداد کی تقسیم سے‘ ظہور الٰہی فیملی نے اپنے اثاثے ہمارے بچپن میں آپس میں تقسیم کر لیے تھے صرف لاہور کا گھر رہ گیا تھا‘ یہ گھر ہمارے نانا چودھری ظہور الٰہی نے بنانا شروع کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے قبل ہی ....مزید پڑھئے‎

میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’خاندان میں اختلافات کہاں سے شروع ہوئے؟‘‘ ان کا جواب تھا’’جائیداد کی تقسیم سے‘ ظہور الٰہی فیملی نے اپنے اثاثے ہمارے بچپن میں آپس میں تقسیم کر لیے تھے صرف لاہور کا گھر رہ گیا تھا‘ یہ گھر ہمارے نانا چودھری ظہور الٰہی نے بنانا شروع کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے قبل ہی ....مزید پڑھئے‎