اب اندازہ ہوانواز شریف کی نا اہلی غلط تھی ، سابق وزیراعظم نواز شریف کی نا اہلی پر وکٹری کا نشان بنانے والے صحافی معید پیرزادہ نے اعتراف کر لیا

  پیر‬‮ 23 مئی‬‮‬‮ 2022  |  19:55

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سینئر صحافی معید پیرزادہ نے صحافی مطیع اللہ جان کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ میں اپنے کئی وی لاگز میں کہہ چکا ہوں کہ نواز شریف کیساتھ بھی جو کچھ ہوا،جنرل مشرف نے 1999میں جو مداخلت کی تھی اس کا جنرل مشرف کے پاس کسی قسم کا کوئی جواز نہیں تھالیکن ہماری آنکھوں پر ایسا پردہ پڑا ہوا تھا کہ ہم اسے جواز پیش کرتے رہے ۔

ہم نے پاکستان کی سیاست کو انڈیا کی آنکھ سے دیکھا۔لیکن اب پتہ چلا یہ گیم کچھ اور ہی ہے۔ ہم جن چیزوں کو نیشنلزم سمجھتے رہےقومی وسیع تر مفاد سمجھتے رہےوہ نہیں تھا۔ یہاں شاید بہت سی ایسی شخصیات ہوتی ہے جن کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور وہ ان کے اندر کھیل رہے ہوتے ہیں۔اب نواز شریف کی نا اہلی بھی مشکوک لگتی ہےجس طرح سے ہوئی ، کیسز اس وقت بہت سے آئے تھے۔وہ ہمیں کیسے پتہ چلا۔ ایک ہزار پیجز کے دس والیمزاس بدنصیب نے پڑھے۔ اپنے گھر میں رکھے ہوئے تھے اب پھینک دیے۔ پھر سپریم کورٹ کا بھی فیصلہ پڑھا پہلے والا اور پھر دوسرے والاوہ بھی سینکڑوں صفحات پر تھا۔اس کے بعد جو کچھ ہوااس کے بعد لگتا تھا اس سب کی کوئی ویلیو نہیں تھی ، یا وہ چیزیں ہی کچرا تھیںغلط تھی۔اس پر صحافی مطیع اللہ جان نے پوچھا کیا آپ سمجھتے ہیں نواز شریف کی نا اہلی پر آپ نے جو وکٹری کا نشان بنایا وہ صحیح نہیں تھا جس پر معید پیرزادہ اعتراف کرتے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں ہم لوگ گمراہ تھے ، وہ پاکستان کی جمہوریت کی جیت نہیں تھی ۔ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ ایک بہت بڑی شخصیت کے اوپر کرپشن کا الزام تھااور اس کو کرپشن کے الزامات کے اوپرسزا ملے گی لیکن بادی النظر میں اب ہمیں لگتا ہے وہ صرف ایک سیاسی پراسس تھاجس میں ہم استعمال ہوگئے ۔ جس پر صحافی مطیع اللہ جان پوچھتے ہیں ، اچھا آپ استعمال ہوگئے ،

آپ نے لوگوں کو بھی گمراہ کیا ، کیا آپ معافی مانگنا چاہیں گے؟ جس پر معید پیرزادہ اعتراف کرتے ہیں ہم نے اس وقت جو پوزیشن لی وہ ٹھیک نہیں تھی ۔



زیرو پوائنٹ

گھوڑا اور قبر

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎