بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

تحریک انصاف نے ڈی چوک کی کال کیوں نہیں دی ؟حامد میر نے ممکنہ وجہ بتا دی ٗ اتحادی حکومت کو بھی اہم مشورے

datetime 23  مئی‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف اینکر حامد میر نے نجی ٹی وی پروگرام میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں جہاں یہ بات حکومت کیلئے چیلنج ہوگی وہیں تحریک انصاف کیلئے بہت ہوگی کیونکہ گرمی کا موسم ہے سری نگر ہائی وے پر بلا رہے ہیں اس کا مطلب ہے انہوں نے ڈی چوک کی کال نہیں دی ہے اس کا مطلب ہوسکتا ہے کہ

حکومت کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہ رہے ہیں یہ اُن کی بڑی نپاتلا قدم ہے کہ انہوں نے وقت بھی دے دیا ہے اور جو جگہ دی ہے وہ بہت اہم ہے سری نگر ہائی وے کشمیر روڈ زیادہ کھلی اور اُس جگہ کو بھرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ وہ بہت پر اعتماد ہیں کہ لوگ زیادہ آئیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ پہلے کشمیر ہائی وے پر لوگوں کو اکٹھا کریں گے جو 2014 میں بھی کیا تھا اس کے بعد وہ ڈی چوک کی طرف آئے تھے اس دفعہ بھی شاید یہی اسٹیٹجی ہو ضروری ہے حکومت انہیں روکنے کی کوشش نہ کرے اور پرامن طریقے سے آنے دے اور جو رکاوٹیں عمران خان کے دور میں کھڑی کی گئیں تھیں وہ ابھی تک وہیں موجود ہیں جو کنٹینر جن جگہوں پر کھڑے کر کے گئے تھے وہ وہیں کھڑے ہیں مگر مزید کنٹینر کھڑے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت کو ایزی لینے کی ضرورت ہے اگر ایزی نہیں لے گی تو پریشانی میں آسکتی ہے۔ کل تحریک انصاف کی لیڈر شپ سے بات ہو رہی تھی جو شیریں مزاری کے معاملے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر جمع تھے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اگر انہوں نے بڑی تعداد میں لوگوں کو رات میں اکٹھا کرلیا ہے جو یقینا ہزاروں میں نہیں تھے لیکن سینکڑوں میں ضرور تھے۔

لانگ مارچ ہوجائے تو لوگ اکٹھا کرلیں گے اس پر ان کا یہی کہنا تھا کہ ہم بالکل کرسکتے ہیں اور ہمارا ٹارگٹ یہ ہے کہ کم از کم ایک مہینہ کے لیے اسلام آباد میں بیٹھنے آئیں گے اس کے لیے یقینا وہ انتظامات بھی کریں گے اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس کو کس طرح ہینڈل کریں گے؟ کچھ اتحادی جے یو آئی ف اس لانگ مارچ کو سختی سے نمٹنے کا مشورہ دے رہے ہیں جب کہ پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ روٹین کی سیاسی ایکٹوٹی کے طور پر ڈیل کیا جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…