سیاست بچانے کیلئے یہ کام ہرگز نہ کریں، ایم کیوایم کا حکومت سے بڑا مطالبہ

  پیر‬‮ 16 مئی‬‮‬‮ 2022  |  19:51

اسلام آباد (این این آئی)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہاہے کہ ایم کیوایم نئے انتخابات کیلئے تیار ہے پر نئی مردم شماری اور پھر نئی ووٹرلسٹوں کی بنیاد پر انتخابات کرائے جائیں، سیاست بچانے کیلئے پیٹرولیم کی قیمتیں نہ روکیں، لیکن غریبوں پر بوجھ نہ ڈالیں۔پیر کو وزیراعظم شہبازشریف سے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے ملاقات کی

جس میں ملکی سیاسی صورت حال پر گفتگو اورمشاورت کی گئی۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ موجودہ مسائل کا حل عام انتخابات ہیں،فریش مینڈیٹ لیا جائے، دیر کی تو بدنصیبی ہوگی، انتخابی اصلاحات ایک ہفتے میں ہوسکتی ہیں، مشکل حالات ہیں ہمیں ریاست کو دیکھنا ہے یا سیاست کو، ریاست بچانیکی خاطرمشکل فیصلے لینے چاہئیں اور سیاست کی قربانی دیناہوگی، مردم شماری کا آغاز اگست کے بجائے جون میں کیا جاسکتا ہے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم نے حکومت سے معاہدہ کیا ہے اور مطالبہ بھی کیا ہیکہ پہلے نئی مردم شماری کرائی جائے اور پھر نئی ووٹر لسٹوں کی بنیاد پر انتخابات کرائے جائیں، پی ٹی آئی حکومت سے بھی یہی مطالبہ کیا تھا۔رہنما ایم کیو ایم نے کہاکہ صرف اپنی سیاست بچانے کے لیے پیٹرولیم کی قیمتوں کو نہ روکیں، پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھانا ناگزیر ہیں تو بڑھائی جائیں تاہم غریبوں پر بوجھ نہ ڈالیں، بڑی گاڑی والوں اور موٹر سائیکل کی ٹنکی بھروانے والوں میں فرق رکھیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم شہبا زشریف کو تجویز دی ہے کہ وزیرخزانہ معاشی صورت حال پر اتحادیوں کوبریفنگ دیں، جاگیرداروں،صنعت کاروں اور امیروں سے براہ راست ٹیکس وصول کیا جائے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ نے کہاکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت اور توسیع سے متعلق قانون سازی کرلینی چاہیے،

بروقت فیصلے نہ ہوئے تومعاشی حالات مزید ابتر ہوتے دیکھ رہے ہیں، نگران حکومت پرزیادہ بوجھ نہیں ڈالاجاناچاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے پوری طاقت سیسیاست میں واپس آئیں، ہم چھینی گئی 14 سیٹیں واپس لینا چاہتے ہیں، جب تک الطاف حسین نے پاکستان کے خلاف نعرہ نہیں لگایا تھا تو ہم ساتھ کھڑے رہے، پی ڈی ایم کیساتھ معاہدوں پرعمل درآمدنہ ہوا تو اپوزیشن میں بیٹھنے کا آپشن کھلا ہے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

گھوڑا اور قبر

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎