جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

میرے پاس تم ہو کیخلاف درخواست کی سماعت، آپ پہلے کیا کررہی تھیں پورا ڈرامہ دیکھ کر آگئیں،اب کہہ رہی ہیں معاشرہ خراب ہوگیا،عدالت کے ریمارکس

datetime 23  جنوری‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)سندھ ہائیکورٹ میں نجی ٹی وی چینل سے نشر ہونے والے ڈرامہ ”میرے پاس تم ہو“ کی آخری قسط ٹیلی کاسٹ کرنے سے روکنے کے خلاف درخواست کی سماعت عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔سندھ ہائیکورٹ میں نجی ٹی وی چینل سے نشر ہونے والے ڈرامہ میرے پاس تم ہو کی آخری قسط ٹیلی کاسٹ کرنے سے روکنے کے خلاف درخواست کی

سماعت سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی عدالت میں ہوئی درخواست میں وفاقی حکومت،منسٹری آف انفارمیشن،پیمرا،سندھ سنسر بورڈ،اے آر وائے ڈیجیٹل،پروڈیوسر ہمایوں سعید و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار ثنا سلیم کا کہنا ہے کہ ڈرامہ سیریل میرے پاس تم ہو کی آخری قسط نشر کرنے سے روکا جائے،ڈرامہ کے رائٹر اور پروڈیوسر کو حکم دیا جائے کہ عوام سے معافی مانگیں،ڈرامے میرے پاس تم ہو میں دکھایا گیا کہ نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہے ہیں،ڈرامے میں دیکھا گیا کہ ایک چھ سالہ بچے اپنی اسکول ٹیچر سے اپنے باپ کا رشتہ کرا رہا ہے، سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ سنیما میں ڈرامہ کیوں دکھایا جارہا ہے پہلے تو ڈرامہ نہیں دکھایا جاتا تھا؟ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ لوگوں نے بڑے پیمانے پر ٹکٹس خرید لیے ہیں ، عدالت کا کہنا تھا کہ آپ نے بھی خرید لیا کیا؟ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ جی میں نے بھی خرید لیا ہے دیکھنے جاؤں گا،درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ڈرامہ روکا جائے مغربی کلچر دکھایا جارہا ہے، عدالت کا کہنا تھا کہ آپ پہلے کیا کررہے تھے پورا ڈرامہ دیکھ کر آگئے،آپ کہہ رہی ہیں معاشرہ خراب ہوگیا اب اتنی قسطوں میں جو خرابی ہوچکی اس کا کیا ہوگا؟یہاں جتنے بول رہے ہیں سب نے ٹکٹ خریدا ہوا ہے، سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ مگر وہ عورت واپس آرہی ہے آخری قسط میں، عدالت کا کہنا تھا کہ اتنے ٹکٹس فروخت ہوگئے آخری وقت پر کیسے روک دیں؟

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ڈائیلاگ میں کہا گیا ہے دو ٹکے کی عورت اس طرح خواتین کی بے عزتی ہورہی ہے،عدالت کا کہنا تھا کہ ہم پروڈیوسروغیرہ کو بلا کر پوچھیں گے،فی الحال نوٹس جاری کررہے ہیں،ہم جائزہ لے کر آئندہ کیلئے پیمرا کو ہدایات جاری کریں گے،عدالت نے وفاق، پیمرا، سندھ سینسر بورڈ، نجی ٹی وی،ڈرامہ میرے پاس تم ہو کے ڈائریکٹر ندیم بیگ اور پروڈیوسر ہمایوں سعید کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین کو چار فروری تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…