یونیورسٹی آف واشنگٹن میں موسیقی کی تربیت دینے والا صدی کا عظیم ترین گلوکار پاکستانی استاد

  جمعہ‬‮ 13 اکتوبر‬‮ 2017  |  10:37

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) استاد نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948 کو قوال گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نصرت فتح علی خان کے والد فتح علی خان اور تایا مبارک علی خان اپنے وقت کے مشہور قوال تھے۔ ان کے خاندان نے قیام پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر سے ہجرت کر کے فیصل آباد میں سکونت اختیار کی تھی۔ استاد نصرت فتح علی خان نے اپنی تمام عمر قوالی کے فن کو سیکھنے اور اسے مشرق و مغرب میںمقبول عام بنانے میں صرف کر دی۔انہوں نے صوفیائے کرام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا اور ان

کے فیض سے خود انہیں بے پناہ شہرت نصیب ہوئی۔ ان کی مشہور قوالی علی مولا علی ایک یادگار ہے۔ بعد میں انہوں نے لوک شاعری اور اپنے ہم عصر شعراء کا کلام اپنے مخصوص انداز میں گا کر ملک کے اندر کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور اس دور میں سن چرخے دی مٹھی مٹھی مٹھی کوک ماہی مینوں یاد آوندا اور سانسوں کی مالا میں سمروں میں پی کا نام نے عام طور پر قوالی سے لگاؤ نہ رکھنے والے طبقے کو اپنی طرف راغب کیا اور یوں نصرت فتح علی خان کا حلقہ اثر وسیع تر ہو گیا۔نصرت فتح علی خان صحیح معنوں میں شہرت کی بلندیوں پر اس وقت پہنچے جب پیٹر گبریل کی موسیقی میں گائی گئی ان کی قوالی دم مست قلندر مست مست ریلیز ہوئی۔ اس مشہور قوالی کے منظر عام آنے سے پہلے وہ امریکہ میں بروکلن اکیڈمی آف میوزک کے نیکسٹ ویوو فیسٹول میں اپنے فن کے جوہر دکھا چکے تھے لیکن دم مست قلندر مست مست کی ریلیز کے بعد انہیں یونیورسٹی آف واشنگٹن میں موسیقی کی تدریس کی دعوت دی گئی۔بین الاقومی سطح پر صحیح معنوں میں ان کا تخلیق کیا ہوا پہلا شاہکار 1995ء میں ریلیز ہونے والی فلم ڈیڈ مین واکنگ کا ساؤنڈ ٹریک تھا بعد میں انہوں نے ہالی وڈ کی فلم دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ اور بالی وڈ میں پھولن دیوی کی زندگی پر بننے والیمتنازع فلم بینڈٹ کوئین کے لئے بھی موسیقی ترتیب دی۔ نصرت فتح علی خان نے جدید مغربی موسیقی اور مشرقی کلاسیکی موسیقی کے ملاپ سے ایک نیا رنگ پیدا کیا اور نئی نسل کے سننے والوں میں کافی مقبولیت حاصل کی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں