پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

آن لائن ایپس سے قرضہ لینے والے شہریوں کو بلیک میل کرنے کا انکشاف

datetime 11  جون‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)آن لائن ایپس سے قرضہ لینے والے شہری رقم لینے کے بعد سکون کے بجائے بڑی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں اور اپنی جمع پونجی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔سوشل میڈیا پر قرضہ کی فراہمی کیلئے بہت ساری ایپس موجود ہیں جو لوگوں کو چھوٹے قرضے آن لائن فراہم کرتی ہیں، جو درحقیقت عوام کو لوٹنے کا جدید طریقہ ہے۔ان ایپس کی جانب سے مختلف ناموں اور بروقت طریقوں سے قرضہ دینے کے اشتہار سوشل میڈیا پر چلتے ہیں جس میں قرضہ لینے والے خواہش مند افراد کو ایک سے دو دن میں قرضہ کی سہولت دینے کی پیش کش کی جاتی ہے اور پھر باقاعدہ لوٹ مار کا سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے۔

ان ایپس کے نمائندوں سے دھوکہ کھانے والے چند متاثرین نے خصوصی گفتگو کے دوران اپنے ساتھ گزرنے والی داستانیں سنائی ہیں۔وسیم خان نامی شہری نے بتایا کہ میں نے 18اپریل 2021 کو بروقت نام کی ایپ سے 50000 کا لون اپلائی کیا لیکن انہوں نے مجھے صرف 2800 روپے بھیجے۔وسیم نے بتایا کہ اب تک ایک سال کے دوران میں چار لاکھ 30 ہزار روپے ادا کرچکا ہوں اور اب وہ مزید کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان ایپس پر نوے دن کا کہہ کر قرضہ دیا جاتا ہے اور ایک ہفتے بعد ہی کمپنی رقم کا تقاضا کرنا شروع کردیتی ہے اور نہ دینے کی صورت میں مغلظات اور رشتہ داروں کے نمبرز پر رابطہ کرکے ان کو بتانے، فیملی کی تصاویر اور کال ریکارڈ لیک کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔نومی نامی شہری نے بتایاکہ میں نے تمام اداروں میں میں درخواستیں دی ہیں لیکن کوئی بھی ادارہ ان کیخلاف کارروائی نہیں کررہا، اب تک سینکڑوں ایپس کام کررہی ہیں اور ان کو لائسنس ایس ای سی پی جاری کرتی ہے۔متاثرہ شہریوں نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ ان ایپس کیخلاف موثر کارروائی کی اپیل کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…