مریم نواز کا بطور وزیراعلی پنجاب تقرر پاکستانی سیاست میں سنگ میل ہے، امریکا

5  مارچ‬‮  2024

واشنگٹن (این این آئی)امریکا نے رہنما مسلم لیگ (ن)مریم نواز کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب تقرر کو پاکستانی سیاست میں سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔واشنگٹن میں ایک نیوز بریفنگ کے درمیان محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلی کے طور پر مریم نواز کے انتخاب کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستانی سیاست میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

میتھیو ملر نے امید ظاہر کی کہ مریم نواز کا انتخاب پاکستانی سیاست میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی راہ ہموار کرے گا۔8 فروری کے انتخابات کے بعد نئی حکومت کے بارے میں ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ میں نئے وزیر اعظم کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کروں گا لیکن جیسا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ ہم پاکستان کے ساتھ دیرینہ شراکت داری کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور ہم مستقل طور پر ایک مضبوط، خوشحال، اور جمہوری پاکستان کو امریکا-پاکستان کے مفادات کے لیے انتہائی اہم سمجھتے ہیں۔نئی قیادت کے ساتھ روابط کے تسلسل پر زور دیتے ہوئیمیتھیو ملر نے اعلان کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی حکومت کے ساتھ ہماے روابط ان مشترکہ مفادات پر توجہ مرکوز کرتے رہیں گے۔ترجمان نے مریم نواز کے نئے وزیر اعلی کے طور پر انتخاب کو پاکستانی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ہم خواتین بشمول امریکا-پاکستان ویمن کونسل ، سول سوسائٹی و دیگر کو ملک کی سیاست، معیشت اور دیگر فیصلہ سازی کے شعبوں میں مکمل طور پر ضم کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ زیادہ وسیع پیمانے پر تعاون کے منتظر ہیں۔

خواتین کی شمولیت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ ایک جامع پاکستان سے ہی ایک مضبوط، خوشحال ملک بنے گا جس سے تمام پاکستانی مستفید ہوں گے۔جب ایک اور صحافی نے انہیں یاددہانی کروائی کہ پاکستان میں پہلے ہی بینظیر بھٹو خاتون وزیر اعظم رہ چکی ہیں جوکہ ایک سنگ میل تھا تو میتھیو ملر نے کہا کہ وہ بالکل تھیں اور اس بات سے اس حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے۔مریم نواز پر اپوزیشن کی جانب سے دھاندلی سے متعلق لگائے گئے الزام کے سوال پر ترجمان نے جواب دیا کہ میں پاکستان کی اندرونی سیاست پر تبصرہ نہیں کروں گا۔عمران خان اور ان کی پارٹی کی حمایت کرنے والے امریکی پاکستانیوں کی نمایاں اکثریت کو الگ نہ کرتے ہوئے نئی حکومت کا پرتپاک لیکن محتاط استقبال واشنگٹن کے ملک کی نئی قیادت کے ساتھ تعاون کو برقرار رکھنے کے ارادے کو اجاگر کرتا ہے۔ان تبصروں نے ملک میں نو منتخب قیادت کے ساتھ مثبت تعلقات کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے لیے تعاون جاری رکھنے کی راہ ہموار کی ہے۔



کالم



اللہ کے حوالے


سبحان کمالیہ کا رہائشی ہے اور یہ اے ایس ایف میں…

موت کی دہلیز پر

باباجی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا‘ ساہو…

ایران اور ایرانی معاشرہ(آخری حصہ)

ایرانی ٹیکنالوجی میں آگے ہیں‘ انہوں نے 2011ء میں…

ایران اور ایرانی معاشرہ

ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں ‘ ہم اگر…

سعدی کے شیراز میں

حافظ شیرازی اس زمانے کے چاہت فتح علی خان تھے‘…

اصفہان میں ایک دن

اصفہان کاشان سے دو گھنٹے کی ڈرائیور پر واقع ہے‘…

کاشان کے گلابوں میں

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے‘ یہ سارا…

شاہ ایران کے محلات

ہم نے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

امام خمینی کے گھر میں

تہران کے مال آف ایران نے مجھے واقعی متاثر کیا…

تہران میں تین دن

تہران مشہد سے 900کلو میٹر کے فاصلے پر ہے لہٰذا…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…