الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کے حصول کیلئے سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کردی

4  مارچ‬‮  2024

اسلام آباد(این این آئی)الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کے معاملے پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مخصوص نشستوں کے حصول کیلئے سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کردی۔پیر کو مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کہا کہ سنی اتحاد کونسل اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں، اسے مخصوص نشستیں نہیں مل سکتیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بروقت ترجیحی فہرستیں جمع نہیں کروائی گئیں۔الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے دیگر جماعتوں کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں میں ان کی سیٹوں کے تناسب سے تقسیم کی جائیں گی، اسمبلیوں کی مخصوص نشستیں خالی نہیں رکھی جا سکتیں۔

سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا فیصلہ متفقہ طور پرسنایا گیا تاہم مخصوص نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو دینے کے فیصلے سے ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ نے اختلاف کیا۔الیکشن کمیشن کے ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ چاروں ممبران سے اتفاق کرتا ہوں کہ نشستیں سنی اتحاد کونسل کو نہیں دی جاسکتیں۔انہوں نے کہا کہ یہ مخصوص نشستیں باقی سیاسی جماعتوں میں بھی تقسیم نہیں کی جاسکتیں، یہ نشستیں آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 کے تحت خالی رکھی جائیں۔اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 106 واضح ہے کہ ہر سیاسی جماعت کو حاصل شدہ جنرل نشستوں کیمطابق مخصوص نشستیں ملیں گی۔بابر حسن بھروانہ کا اختلافی نوٹ میں کہنا تھا کہ نشستیں تب تک خالی رکھی جائیں جب تک آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم نہیں ہوجاتی۔یاد رہے کہ 28فروری کو ہونے والی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے سنی اتحاد کونسل کا کمیشن کو لکھا خط پاکستان تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کو دیتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں چاہییں تو آپ کیوں ان کو مجبور کر رہے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط بیرسٹر علی ظفر کو دیتے ہوئے کہا تھا کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے 26 فروری کو الیکشن کمیشن کو خط لکھا جس میں سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ اس نے جنرل الیکشن لڑے، نہ اسے مخصوص نشستیں چاہییں۔بیرسٹر علی ظفر نے سنی اتحاد کونسل کے خط سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کو سنی اتحاد کونسل نے ایسے کسی خط کے حوالے سے نہیں بتایا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 28 فروری کو درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جسے پیر کو جاری کیا گیا ہے۔

اس سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن اور وکیل حامد خان، پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر علی، پی ٹی آئی وومن ونگ کی صدر کنول شوزب، مسلم لیگ (ن)کے وکیل اعظم نذیر تارڑ ، پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پاکستان)کے وکیل فروغ نسیم، جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن(جے یو آئی ف)کے کامران مرتضی، سنی اتحادکونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا الیکشن کمیشن میں موجود تھے۔سنی اتحاد کونسل میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اراکین اسمبلی نے اپنے انتخابی نشان کے بغیر انتخابات جیتنے کے بعد شمولیت اختیار کی تھی، بعدازاں سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا جس میں بلوچستان کے سوا قومی اور 3 صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستیں مختص کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم الیکشن کمیشن نے اس درخواست پر اس وقت تک غور نہیں کیا جب تک سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملنے کے خلاف درخواستوں کا ڈھیر نہ لگ گیا جس میں یہ کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل پارلیمانی پارٹی نہیں ہے اور اس نے مخصوص نشستوں کے لیے امیدواروں کی ترجیحی فہرست جمع نہیں کرائی تھی۔

سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے خلاف درخواستوں کی 2 روز سماعت کے بعد ان درخواستوں کو سنی اتحاد کونسل کی درخواستوں کے ساتھ منسلک کردیا گیا تھا اور کچھ دیگر پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری کیے گئے تھے۔الیکشن کمیشن نے اب تک قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے کل 226 مخصوص نشستوں میں سے 78 کی الاٹمنٹ کو روک رکھا ہے، طے شدہ فارمولے کے تحت یہ تمام نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی تھیں۔قومی اسمبلی میں خواتین کی کل 60 مخصوص نشستوں میں سے الیکشن کمیشن نے اب تک 40 نشستیں مختلف سیاسی جماعتوں کو مختص کی ہیں، ان میں پنجاب کی کل 32 نشستوں میں سے 20، خیبرپختونخوا کی 10 میں سے 2، سندھ کی تمام 14 اور بلوچستان کی چاروں نشستیں شامل ہیں، اسی طرح الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی میں اقلیتوں کے لیے مخصوص 10 نشستوں میں سے اب تک 7 نشستیں مختص کی ہیں۔پنجاب اسمبلی میں خواتین کے لیے کل 66 مخصوص نشستوں میں سے 42 نشستیں اور 8 میں سے 5 اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں مختص کی جاچکی ہیں۔

سندھ اسمبلی میں الیکشن کمیشن نے خواتین کے لیے مخصوص 29 نشستوں میں سے 27 اور اقلیتوں کے لیے مخصوص 9 میں سے 8 نشستیں مختص کی ہیں۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں الیکشن کمیشن نے خواتین کے لیے کل 26 مخصوص نشستوں میں سے 5 اور اقلیتوں کے لیے مخصوص 4 میں سے ایک مخصوص نشستیں مختص کی ہے۔بلوچستان اسمبلی میں خواتین کے لیے تمام 11 اور اقلیتوں کے لیے مخصوص 3 نشستیں پہلے ہی مختص کی جا چکی ہیں۔



کالم



اللہ کے حوالے


سبحان کمالیہ کا رہائشی ہے اور یہ اے ایس ایف میں…

موت کی دہلیز پر

باباجی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا‘ ساہو…

ایران اور ایرانی معاشرہ(آخری حصہ)

ایرانی ٹیکنالوجی میں آگے ہیں‘ انہوں نے 2011ء میں…

ایران اور ایرانی معاشرہ

ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں ‘ ہم اگر…

سعدی کے شیراز میں

حافظ شیرازی اس زمانے کے چاہت فتح علی خان تھے‘…

اصفہان میں ایک دن

اصفہان کاشان سے دو گھنٹے کی ڈرائیور پر واقع ہے‘…

کاشان کے گلابوں میں

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے‘ یہ سارا…

شاہ ایران کے محلات

ہم نے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

امام خمینی کے گھر میں

تہران کے مال آف ایران نے مجھے واقعی متاثر کیا…

تہران میں تین دن

تہران مشہد سے 900کلو میٹر کے فاصلے پر ہے لہٰذا…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…