پاکستان اس لئے نہیں بنا کہ نواز شریف اور زرداری ارب پتی بنیں، وزیراعظم کی اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد الیکشن کمیشن، نواز شریف اور آصف زرداری پر کڑی تنقید

  ہفتہ‬‮ 6 مارچ‬‮ 2021  |  15:38

اسلام آباد(آن لائن) وزیراعظم نے 178 ووٹ حاصل کر کے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا۔حکومت اور اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور ق لیگ سمیت 180 سے زائد ممبران اجلاس میں شریک ہوئے، عمران خان نے2018 میں وزیراعظم بنتے وقت 176 ووٹ لیے تھے۔ جماعت اسلامی کے رکن مولانا اکبر چترالی اور پی ٹیایم کے رکن محسن داوڑ بھی اجلاس میں شریک ہوئے تاہم انہوں نے ووٹ نہیں دیا جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا جس کے نتیجے میں عمران خان کو ایک بھی ووٹ مخالفت میں نہیں ملا۔ہفتہ کے


روز 12بج کر15 منٹ پر قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔ وزیراعظم عمران خان جیسے ہی قومی اسمبلی پہنچے تو حکومتی ارکان نے وزیراعظم کے حق میں نعرے بازی کی۔شاہ محمود قریشی نے سپیکر کی اجازت سے وزیراعظم پر اعتماد کے حوالے سے قرارداد پیش کی۔ایوان میں قرارداد کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے سے متعلق اراکین کو طریقہ کار بتایا، اسپیکر کی ہدایت کے بعد ایوان میں 5 منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں اور پھر اسپیکر نے ایوان کے دروازے بند کرنے کا اعلان کیا۔سپیکر قومی اسمبلی نے وزیر اعظم کی حمایت میں ووٹ دینے والوں کو دائیں لابی کی طرف جانے کی ہدایت کی۔وزیراعظم عمران خان کو 342 کے ایوان میں کامیابی کے لیے 172 ووٹ درکار تھے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے بائیکاٹ کی وجہ سے اپوزیشن کی بینچیں خالی ہیں جس پر حکومتی ارکان نے نوٹوں کے ہار رکھ دیے جب کہ حکومتی ارکان نوٹ کو عزت دو کے پلے کارڈ بھی اپنے ہمراہ لائے ہیں۔مہمانوں کی گیلری میں بڑی تعدادمیں اہم شخصیات موجود تھی جن میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ بھی شامل تھے۔، وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیراعلیٰ پنجاب بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہیں۔قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کے 180 جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے 160 ارکان ہیں ۔ قومی اسمبلی ارکان کے لئے گھنٹیاں بھی بجائی گئیں۔ووٹنگ کے دوران ایوان کے تمام داخلی دروازے بند کر دیئے گئے۔ وزیراعظم کے حق میں ووٹ دینے والے دائیں جانب لابی میں گئے۔ عمران خان نے بھی اپنا ووٹ درج کروایا۔غلام بی بی بھروانہ، عامر لیاقت اور باسط بخاری بھی قومی اسمبلی میں موجود تھے۔ بعدازں وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ سینیٹ الیکشن میں بکرا منڈی لگی ہوئی تھی، سینیٹ انتخابات میں جو ہوا اس پر شرمندگی ہوتی ہے، ایک ماہ سے جانتے تھے سینیٹ الیکشن کیلئے پیسہ جمع کیا جا رہا ہے، الیکشن کمیشن کہتا ہے بڑا اچھا انتخاب ہوا، اس سے مجھے اور صدمہ ہوا، اگر یہ اچھا الیکشن ہے تو برا الیکشن کیا ہوتا ہے؟وزیراعظم نے کہا کہ اتحادی ہر مشکل وقتمیں میرے ساتھ کھڑے رہے، مجھے آپ میں ایک ٹیم نظر آئی، ہماری ٹیم مضبوط ہوتی رہے گی، مشکل وقت سے نکلنے پر آپ مزید مضبوط ہوتے ہیں، بڑا انسان بننے کیلئے مشکل وقت کا سامنا کرو، ذہن کو جتنا آزمائشوں میں ڈالیں کہ یہ مزید مضبوط ہوگا، کسی کو تباہ کرنا ہے تو اسے آرام دہ زندگی دے دو، جب آپ مشکل وقت سے نکلتےہیں تو اور مضبوط ہو جاتے ہیں، آپ سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، مشکل وقت سے نکلے۔ انہوں نے کہا کہ کئی اراکین کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی پھر بھی آئے، شکریہ ادا کرتا ہوں، ارکان اسمبلی نے آج یہاں پہنچنے کیلئے بڑی تکالیف کا سامنا کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومیں نظریے سے ہٹ جائیں تو تباہ ہو جاتی ہیں، ہماری لیڈر شپ کو پتہہونا چاہیے کہ پاکستان ایک عظیم خواب تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ زرداری دنیا بھر میں 10 پرسنٹ سے مشہو رہے، اس پر فلمیں بنی ہوئی ہیں، چڑھے ہوئے قرضے بیماری کی علامات ہیں، قوم کو اخلاقی تباہ کیا، چڑھے ہوئے قرضے بیماری کی علامات ہیں، قوم کو اخلاقی تباہ کیا، کوئی ملک کرپٹ لیڈر شپ کے ساتھ خوشحال نہیں رہ سکتا،کہا جاتا ہے ایک زرداری سب پر بھاری، وہ رشوت دیتا اس لیے وہ بھاری ہے؟۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اس لئے نہیں بنا کہ نواز شریف اور زرداری ارب پتی بنیں، نواز شریف ملک کو 30 سال سے لوٹ کر ملک سے باہر بھاگا ہوا ہے، مولانا فضل الرحمان ہمیشہ سے دو نمبر آدمی ہے، این آر او لے کر دونوں نے دونوں ہاتھوںسے ملک لوٹا، سارے ڈاکو سمجھ رہے ہیں پریشر ڈالو یہ عمران خان این آر او دے دے گا، نواز شریف، زرداری سمیت اپوزیشن سمجھتی ہے مجھے بلیک میل کر لے گی، ڈاکو نواز شریف نے 30 سال ملک کو لوٹا اور بھاگ گیا، یوسف رضا گیلانی نے رقم واپس لانے کیلئے خط نہیں لکھا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فیٹف کی گرے لسٹ میں ہماریوجہ سے نہیں، ن لیگ کے دور میں آئے، اپوزیشن کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ ان کو این آر او دیا جائے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نے مہنگے ترین ایل این جی کے معاہدے کئے،ایک دور تھا جب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ دوبئی کی کمپنی میں نوکرری رہے تھے،اپوزیشن سے سوال کرتا ہوں کیا وہ واقعے سمجھتے ہیںکہ ان کے لیڈر ایماندار ہیں،نواز شریف کے دو بیٹے لندن میں جس جگہ رہ رہے ہیں وہاں بڑے بڑے رئیس بھی نہیں رہ سکتے،اکیلا کرپشن ختم نہیں کر سکتا اس کے لئے قوم کو ساتھ دینا ہوگا،پاکستان کی عدلیہ اور نیب کو جو مدد۔چاہیے ان کو فراہم کروں گا،جب تک مجرموں کو سزائیں نہیں دی جائیں گی معاشرہ ٹھیک نہیں ہوگا،،اربوں کیکرپشن اور قتل کرنے والے میڈیا پر روز لیکچر دے رہے ہوتے ہیں،،پاکستان کو۔بچانا ہے تو اخلاق اقدار کو بہتر کرنا ہوگا،عدل اور انصاف ہوگا تو ہی معاشرہ ترقی کرے گا،پوری قوم۔میری اس جدوجہد میں میری مدد کرے،مجھے پارٹی چھوڑ دے پھر بھی اکیلا ان کے خلاف لڑتا رہوں گا،پاکستان مشکل وقت سے نکل کر آگےبڑھنے کے مرحلے پر آگیا ہے،پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہورہا ہے جو خوش آئیند ہے،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ریکارڈ پیسہ پاکستان بھیجا ہے،مہنگائی کا سب سے زیادہ پریشر ہے،حکومت عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم۔کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں،احساس پروگرام کے ذریعے نچلے طبقے کی مدد کریں گے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

راﺅنڈ اباﺅٹ

اندر کمار گجرال بھارت کے 12 ویں وزیراعظم تھے‘ یہ 1997ءاور 1998ءکے درمیان ایک سال وزیراعظم رہے‘ اٹل بہاری واجپائی ان کے بعد وزیراعظم بنے تھے‘ گجرال جہلم میں پیدا ہوئے تھے‘ ان کی ساری تعلیم جہلم اور لاہور کی تھی اور یہ دل سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر دیکھنا چاہتے تھے‘ میاں نواز شریف کے ....مزید پڑھئے‎

اندر کمار گجرال بھارت کے 12 ویں وزیراعظم تھے‘ یہ 1997ءاور 1998ءکے درمیان ایک سال وزیراعظم رہے‘ اٹل بہاری واجپائی ان کے بعد وزیراعظم بنے تھے‘ گجرال جہلم میں پیدا ہوئے تھے‘ ان کی ساری تعلیم جہلم اور لاہور کی تھی اور یہ دل سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر دیکھنا چاہتے تھے‘ میاں نواز شریف کے ....مزید پڑھئے‎