لاہور گرامر سکول میں بڑا سیکنڈل بے نقاب 8 سے زائد طالبات کو ’’پیغامات‘‘ بھیجنے پر استاد برطرف سکول میں پچھلے 4عرصے سے کیا چل رہا تھا؟تہلکہ خیز انکشافات

  پیر‬‮ 29 جون‬‮ 2020  |  12:00

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور گرامر سکول نے ایک استاد کو کم از کم آٹھ سے زائد طالبات کو ’’پیغامات‘‘ بھیجنے کے الزام میں عہدے سے برطرف کر دیا۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ الزامات ان طالبات کی جانب سے سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس کے ذریعے لگائے گئے تھے جبکہ اس رپورٹ کے چھپنے تک مزید دس طالبات نے بھی اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کی نشاندہی کی ہے۔طالبات کے مطابق اعتزاز شیخ سکول میں مناظرہ اور سیاسیات کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ تقریری مقابلے ’’ماڈل یونائیٹڈ نیشن‘‘کی کوچنگ بھی کراتے تھے۔ایل جی ایس سکول کی


انتظامیہ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان تمام تر الزامات کے نتیجے میں اعتزاز شیخ اور ان کے ساتھ مزید دو اور لوگوں کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا گیا ہے۔ سکول انتظامیہ نے اس معاملے پر مزید بات کرنے سے انکار کیا ہے۔جبکہ اے لیول کی انتظامیہ سے منسلک مائرہ رانا نے سوالوں اور فون کا جواب نہیں دیا۔اسی طرح اعتزاز شیخ نے بھیجانے والے سوالوں اور فون کا جواب نہیں دیا۔اب تک ایل جی ایس کی کئی طالبات نے ایسے واقعات کی نشاندہی کی ہے جن میں اعتزاز شیخ کی جانب سے انھیں پیغامات بھیجے گئے۔ یہ پیغامات اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں۔ انتظامیہ نے ان تمام تر شواہد کو دیکھتے ہوئے اعتزاز شیخ سمیت دو اور ٹیچرز کو نوکری سے برطرف کیا ہے۔اعتزاز رحمان شیخ اے لیول کے فرسٹ ایئر کو پڑھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لاہور گرامر سکول کی جوہر ٹاؤن اور ڈیفنس برانچ میں سیاسیات بھی پڑھاتے ہیں۔ایک طالبہ نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ اعتزاز کی طرف سے مبینہ طور پر کم عمر لڑکیوں کو تصاویر بھیجنے اور ٹیکسٹ پیغامات بھیجنے کا سلسلہ تقریباً چار سال سے جاری ہے۔طالبہ کے مطابق اعتزاز نے انھیں 2016 سے 2018 تک پڑھایا تھا جس دوران وہ پڑھائی کا سال ختم ہونے کے بعد بھی انھیں میسیجز کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام تر میسیجز ذومعنی تھے۔طالبہ نے بتایا کہ وہ اس سے پہلے بھی ایل جی ایس کی انتظامیہ کو ان واقعات کے بارے میں بتاتی رہی ہیں لیکن ان کے مطابق انتظامیہ نے الٹاانہیں ٹیچرز کو بہکانے کا الزام لگایا۔اس وقت اعتزاز پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ایل جی ایس کی تقریباً ہر برانچ میں پڑھنے والی طالبہ کو انھوں نے مبینہ طور پر اسی قسم کے میسجز کیے ہیں اور اپنی تصاویر بھی بھیجی ہیں۔اس بارے میں جب اعتزاز سے سوال کیا گیا تو انھوں نے فون کے ذریعے بھیجے گئے سوال پڑھنے کے باوجود جواب نہیں دیااور فون کرنے پر فون کا جواب نہیں دیا۔اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد سے کئی اور طالبات نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ کا سہارا لیتے ہوئے اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کی نشاندہی کی ہے۔ان سب طالبات کی کہانیاں ایک دوسرے سے مماثلت رکھتی ہیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر متعدد صارفین کی جانب سے سکول انتظامیہ کو پہلے کارروائی نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان طالبات کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔ایک صارف نے لکھا کہ کوئی سکول کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ اس طرح کے لوگ وہاں دندناتے پھریں۔اس حوالے سے اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے اداکار عثمان خالد بٹ نے لکھا کہ میں ان لڑکیوں کی بہادری سے بہت متاثر ہوا ہوں جنھوں نے ان اساتذہ کے خلاف آواز بلند کی۔انھوں نے کہا کہ کسی اور ایل جی ایس کی برانچ تو کیا ایسے لوگوں کو کسی بھی تعلیمی ادارے کے قریب بھی نہیں آنے دینا چاہیے۔سماجی کارکن اور صحافی صباحت زکریا نے الزام عائد کیا کہ لاہور میں موجود تمام نجی سکولوں کو مکمل استثنیٰ حاصل ہے اور وہ خوف اور استحصال کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔


موضوعات: