جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

کاش وزیراعظم تعلیم اور دینی مدارس کیلئے ہماری خدمات کا ذکر بھی کر دیتے، چودھری شجاعت حسین اپنے شکوے ،شکایتیں سامنے لے آئے

datetime 26  جون‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے وزیراعظم کی تقریر پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر کے آخری پندرہ منٹ سننے کے بعد تین چیزوں پر زور دینا چاہتا ہوں، وزیراعظم نے تعلیمی نصاب پر بات کی، کاش وہ ہمارے دور میں تعلیم اور خصوصاً دینی مدارس کیلئے جو خدمات انجام دیں ان کا بھی ذکر کر دیتے ۔

انہوں نے کہا کہ صدر پرویزمشرف کے زمانے میں یہ ممکن نہیں تھا کہ کوئی مدارس کے حق میں کھل کر بات کرتا، لیکن میں نے، اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی اور دیگر علماء کرام نے مدارس کے حق میں آواز اٹھائی اور پرویز مشرف نے ہمارے قائل کرنے پر یو این میں جا کر اس پر بات بھی کی تھی۔ وزیراعظم نے نصاب میں تبدیلی کے حوالے سے بھی بات کی، جبکہ اس سے متعلق میری وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود سے تین بار بات ہوئی تھی اور انہوں نے یقین دلایا تھا کہ آپ کی تجاویز کو وزیراعظم اور کابینہ کے سامنے رکھوں گا، میں نے اپنی تجاویز میں صوبوں اور وفاق میں ایک نصاب کرنے کہا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ صوبوںکو ہدایات دیں کہ وہ اس پر پوری نظر رکھیں تاکہ وہ ہماری آنے والی نسلوں کو حقیقت سے آگاہ رکھیں، جیسا کہ پاک فوج کی قربانیاں، نشان حیدر جیسے اسباق اور قومی سوچ کو اجاگر کرنے کے حوالے سے مضامین کو بھی نصاب سے نکال دیا گیا تھا جس پر میں نے آواز اٹھائی تھی کہ یہ زیادتی کی گئی ہے، میں اس پر تفصیلاً بات بعد میں کروں گا۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ عمران خان نے اپنی تقریر میں اربوں کے گھپلے کی بات تو کی لیکن کھربوں کے گھپلوں کی بات نہیں کی جو اس ملک میں ہوئے ہیں۔

چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ حکومت کو کشمیر کے معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہئے تاکہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کی داد رسی ہو سکے یا پھر وہ حل بتا دیں کہ رات کے اندھیرے میں بھارتی فوجی نابالغ لڑکیوں کو اٹھا کر بیرکوں میں لے جا کر بدفعلی کرتے ہیں پھر سورج طلوع ہونے سے پہلے انہیں گھر پہنچا دیا جاتا ہے اور ان کو نئے کپڑے اور جعلی زیور پہنا کر کہا جاتا ہے کہ ان کی شادی ہوگئی ہے ان کے ماں باپ کیا فریاد کریں اور جا کر اپنی فریاد کس کو سنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…