ٹھٹھہ میں ڈوبنے والے سات بچوں میں سے کچھ زندہ ہسپتال لائے گئے ، ڈاکٹر موجود نہ ہونے کا افسوسناک انکشاف

  ہفتہ‬‮ 6 جون‬‮ 2020  |  22:16

کراچی (این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ کراچی سے ٹھٹھہ پہنچے پی ٹی آئی رہنما ارسلان بروھی و دیگر کے ہمراہ ضلع ٹھٹھہ کے علاقے جھرک گائوں دائم خان مری پہنچے جہاں پر گزشتہ روز دریائے سندھ میں ساتھ معصوم بچے ڈوب کر جاںبحق ہوگئے تھے، پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے بچوں کے ورثا سے اظہار تعزیت کی اور پاکستان بیت المال کی جانب سے مدد کرنے کی یقین دھانی کرائی۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا واقعے انتہائی افسوس ناک ہے وزیر


صحت کو استعیفا دینا چاہیے۔ اسمبلی فلور پر بڑے بڑے بھاشن دیئے جارہے تھے گرائونڈ پر کچھ موجود نہیں ہے۔ تین بچیاں اور تین بچے حادثے میں فوت ہوئے لیکن کوئی ریسکیو کا عمل نہیں کیا گیا تھا۔ مچھلیوں کی مال بردار گاڑی پر بچوں کو اسپتال پہنچایا گیا۔ مقامی اسپتال میں ڈاکٹر کی جگہ ڈسپنسر ڈیوٹی دے رہا تھا۔ کچھ بچوں کی سانسیں باقی تھی اگر ڈاکٹر موجود ہوتا تو بچے بچ سکتے تھے۔ رورل ہیلتھ سینٹر جھرک میں ساتوں بچے جان کی بازی ہار گئے۔ واپسی میں بچوں کی میتیں اٹھانے کے لئے ایمبولنس نہیں دی گئی کہا گیا کہ ایمبولنس میں پئٹرول نہیں ہے لاشین بھی مال بردار گاڑی میں اٹھائی گئیں۔ ضلع کے 13 اسپتال نجی این جی اور مرف کے حوالے کئے گئے ہیں۔ این جی او کو سالانہ کروڑوں کا بجیٹ دیا جاتا ہے سہولیات نہیں ہیں۔ این جی او سے کانٹریکٹ ختم کر کے اسپتال کو سہولیات دی جائیں۔ انہو ںے مزید کہا کہ کروڑوں کا بجٹ ہونے کے باوجود اسپتال میں دوائیاں میسر نہیں۔ سندھ میں ہر جگہ 18ویں ترمیم کا جنازہ نکالا گیا ہے۔ اسکول۔اسپتالیں سب تباہ ہوچکی ہیں۔ 18ویں ترمیم کے خلاف نہیں ہیں اچھی ترمیم ہے۔ سندھ کو پیپلزپارٹی والوں نے تباہ کیا ہے۔ اب اس کرپٹ ٹولے سے جان چھوٹنے والی ہے۔ ہم کورونا کے ڈر سے ان غریبوں کو تنہا تو نہیں چھوڑیںگے، سیاست میں آتے ہیں تو بڑے وقت بھی آتے ہیں ہم کو ان حالات میں غریبوں کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیئے ہسپتالوں میں سہولیات ناپید ہے کتے کی انجیکشن سانپ کی انجیکشن نہیں ہے ہیلتھ میں سانپ بیٹھے ہیں پئسے بٹورے رہے ہیں ابھی تک ان غریبوں کے پاس ایک عوامی نمائندہ نہیں آیا۔


موضوعات: