آپ نے متاثرہ اور مشتبہ سب کو اکٹھا کردیا ہے ،فوج سے ،ائیر فورس سے مدد لیں، اتنے دن میں کورونا ٹیسٹ کی مفت سہولت موجود ہو، لاہور ہائی کورٹ نے اہم حکم جاری کر دیا

  جمعہ‬‮ 20 مارچ‬‮ 2020  |  21:32

لاہور( این این آئی )لاہور ہائیکورٹ نے کرونا وائرس سے بچائو کیلئے ناکافی اقدامات کے حوالے سے دائر درخواستوں پر صوبائی اوروفاقی حکومت اورمعاون خصوصی برائے صحت سمیت دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیئے، فل بنچ نے قرنطینہ سنٹرز میں دی جانیوالی سہولیات میں احتیاطی تدابیر کے حوالے سے تفصیلات طلب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ جب تک بین الاقوامی سٹینڈرڈ پر نہیں جائیں گے نتائج نہیں آئیں گے،پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو آن بورڈ لیں،آگاہی مہم کو پبلک سروس میسج کے طور پر چلائیں،ہم چاہتے ہیں کہ ایک ہفتے کے اندر اندر کورونا ٹیسٹ کی مفت


سہولت موجود ہو۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں فل بنچ نے کورونا وائرس سے بچائو کے لئے ایک ہی نوعیت کی مختلف درخواستوں پر سماعت کی ۔فل بنچ نے ریمارکس دیئے کہ کورونا وائرس سے بچائو کے لئے آگاہی مہم کو پبلک سروس میسج کے طور پر چلائیں۔فل بنچ نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کو فراہم کردہ فنڈز کی تفصیلات پیش کرنے اور جیلوںمیں کیے گئے اقدامات کے بارے رپورٹ بھی طلب کر لی ۔ دوران سماعت سیکرٹری صحت نے بتایا کہ بہاولپور میں قرنطینہ بنا رہے ہیںجبکہ ڈی جی خان میں بنا ہوا ہے۔ عدالتی استفسار پر سیکرٹری صحت نے بتایا کہ دو جگہوں پر ٹیسٹنگ کی سہولت ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا دو جگہیں دس کروڑ عوام کے لیے کافی ہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ دو تین ہفتوں سے شور مچ رہا ہے حکومت نے تو سامان ہی مکمل نہیں دیا۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا کہ بہاولپور قرنطینہ میں لوگوں کو بہتر طریقے سے نہیں رکھا گیا،جو لوگ ان کی تیمارداری پر تعینات ہیں وہ بھی متاثر ہوسکتے ہیں،تیمار داری کرنے والے افراد کی دو ،دو ہفتے کی ڈیوٹیاںلگائیں۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ ووہان میں جوطریقہ اختیار کیا گیا اسی طرز پر کام کر رہے ہیں ،ہم نے ایس او پی مرتب کیے ہیں اس پر عمل ہو رہا ہے ،ہم کوشش کررہے ہیں کہ کسی پیرامیڈیکس استاف کو کچھ نہ ہو۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے استفسار کیا کہ آپ نے کٹس اور تمام سامان کہاں سے خریدا ہے۔ سیکرٹری صحت نے بتایا کہ ہم نے بازار سے خریدا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ملتان میں کتنے لوگ قرنطینہ میں رکھے گئے ہیں،آپ ہمیں بہاولپور اور ملتان میں دی جانے والی سہولتوں بارے میں آج ہی بتائیں، ٹیسٹ کے لئے پنجاب میں کتنی کٹس موجود ہیں۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ حکومت نے شوکت خانم کو کٹس فراہم کی جو مفت میں ٹیسٹ کررہے ہیں،چغتائی لیب پیسے لے کر ٹیسٹ کررہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 10کروڑعوام کیلئے بس دو جگہ ٹیسٹ کے لئے مختص کرنا صحیح ہے ؟،آپ کے ہر ضلع میں ٹیچنگ ہسپتال ہیں پیتھالوجسٹ ڈیپارٹمنٹ ہے،نشتر ہسپتال کی لیبارٹری کسی پرائیویٹ لیب سے کم نہیں،حکومت نے ابھی تک کسی پرائیویٹ لیب کو کٹس فراہم نہیں کیں،دو ہفتے ہوچکے ہیں اب تک یہ سب ہمارے سامنے آجانا چاہیے تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مشین کی قیمت 70سے 80لاکھ ہے اور اس کا کیمیکل مہنگا ہے،ہمیںلوگوں کی جان و مال کی فکر ہے،اللہ کرے سب محفوظ رہیں لیکن کچھ چیزیں ہمیں پہلے کتنی چاہئیں تھیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر معاملہ خراب ہوگیا اور پھر کام کیا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔آپ دو،دوہزار کلومیٹر سے لوگوں کولے کر شہروں میں آرہے ہیں،انسانی ضروریات ہیں ممکن ہے کہ وہ وائرس پھیلا رہے ہوں ۔عالمی معیار کا قرنطینہ ایک کمرے پر مشتمل ہوتا ہے،کیا آپ اس معیار کے مطابق قرنطینہ بنارہے ہیں۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ ہمارے لیے یہ ممکن نہیں کہ ایسا معیار دے سکیں۔چیف جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ آپ جب تک عالمی معیار کو نہیں اپنائیں گے تو نتائج نہیں آئیں گے ۔آپ ان لوگوں کو وہاں سے ٹیسٹ کراکے کیوں نہیں لارہے۔ سیکرٹری صحت نے کہا کہ ہم ٹیسٹ لے کر لوگوں کو منتقل کررہے ہیں جو متاثر ہیں انہیں الگ کرلیتے ہیں۔جسٹس شاہد جمیل نے کہا کہ آپ نے متاثرہ اور مشتبہ سب کو اکٹھا کردیا ہے ،آپ یہاں لاکر جو کررہے وہاں قرنطینہ میں ایسا کیوں نہیںکررہے،آپ فوج سے ،ائیر ر فورس سے مدد لیں اور متاثرہ اور مشتبہ مریضوں کو علیحدہ علیحدہ یہاں لائیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ جہاں قرنطینہ بنائے گئے ہیں وہاں اردگرد کے لوگوں کیلئے کیا حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جیل میں آنے جانے والے قیدیوں کی طبی سہولیات بارے بھی بتایا جائے،قیدیوں کے رشتہ داروں سے ملاقات کے شیشے لگائے جاسکتے ہیں،جس لحاظ سے امداد مل رہی ہے اس سے قیدیوں کو سہولت دی جاسکتی ہے۔چیف جسٹس نے محکمہ صحت کے حکام سے استفسار کیا کہ ہماری عدالتوں کیلئے آپ کیا کررہے ہیں۔وکلاء سے درخواست کی ہے ، ہم ہائیکورٹ کو تو محدود کرسکتے ہیں ،حافظ آباد کی جو عدالت ہے وہاں کا رش شاید کہیں بھی نہ ہو ۔ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم ایمرجنسی میں ہیں،آگاہی کو پبلک میں عام کریں، عوام صرف ناقد نہیں،کہیں نہ کہیں کچھ غلط ہورہا ہے۔ اپنے ملازمین کی تربیت کریںتاکہ ایس او پیزپر عملدرآمد ہو۔پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو آن بورڈ لیں،آگاہی مہم کو پبلک سروس میسج کے طور پر چلائیں۔چیف جسٹس محمد قاس خان نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو کتنا فنڈدے رہی ہے تفصیلات فراہم کریں،ہم چاہتے ہیں کہ ایک ہفتے کے اندر اندر کورونا ٹیسٹ کی مفت سہولت موجود ہو۔عدالت نے درخواستوں میں مزید سماعت24مارچ تک ملتوی کر دی۔


موضوعات: