جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

جب وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کیلئے گیا تو انہوں نے نہ ملاتے ہوئے کیا کہا ؟ مولانا طارق جمیل نے وجہ بیان کر دی

datetime 18  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مولانا طارق جمیل نے نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل میں جب وزیراعظم عمران خان سے ملا تو انہیں نے مجھے کہا کہ میں مصافحہ مجھے ڈاکٹرز نے کرنے سے منع کیا ہے ۔ ہم دونوں نے ہوائی مصافحہ کیا ۔ ایک سوال کے جواب میںان کا کہنا تھا کہ میں اس معاملے میں بہت زیادہ ستایا ہوا ہوں ، سلام کرنا سنت ہے ، ہاتھ ملانا مستحب ہے ،منہ سے سلام کیا جائے

تو یہ ہے اصل بات لیکن ہاتھ ملانا اس سے نچلے درجے کی چیز ہے ، میرا داہنا بازو ہاتھ ملا ملا کر درد کرتا ہے لیکن لوگ پھر بھی کہتے ہیں بڑا متکبر ہےصرف امیروں سے ہاتھ ملاتا ہے ، غریبوں سے ہاتھ نہیں ملاتا۔ مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ ’’ اللہ پاک کے نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ جس علاقے میں کوئی وبا پھیل جائے تو وہاں کوئی نہ جائے ، اور جہاں یہ پھیل جائے تو وہاں سے بھی کوئی باہر نہ نکلے ۔بلکہ ایک اور جگہ نبی کریم ؐ نے یہ بھی فرمایا کہ’’ اسلام میں چھوت نہیں ہے کہ ایک دوسرے کو لگ جائے گی ‘‘سب کچھ اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ احتیاطی تدابیر جو حکومت وقت اور ڈاکٹرز کی جانب سے بتائی جارہی ہیں عوام کو چاہیے کہ ان پر عمل کرے ۔مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ ہم اللہ پاک سے دعائیں کر رہے ہیں کہ یا اللہ پاک اس بیماری سے جلد سے ختم فرما ، اللہ پاک نے چاہا تو انشاء اللہ یہ بہت جلد ہی ختم ہو جائیگی بےشک اللہ پاک کیلئے اس ختم کرنا کوئی مشکل نہیں وہ چاہے تو ایک ہوا کہ جھونکے کی طرح لے جائے ۔ڈاکٹرز کے مطابق گرمی پڑتی ہے تو اس کے چراثیم مر جاتے ہیں، اگر یہ بیماری رمضان اور عید تک چلتی تو اس میں بھی گلے ملنا کوئی سنت ہے اور نہ کوئی مستحب ہے ۔ بلکہ یہ ہمارے علاقے کا ایک رواج ہے ۔ ایسی صورتحال میں تو بالکل بھی نہیں ملنا چاہیے بلکہ نماز پڑھ کر اپنے اپنے گھروں کو چلیں جائیں ۔مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ مولانا تقی صاحب کے دیئے گئے بیان کیساتھ میں اتفاق کروں گا لیکن میرے نزدیک اللہ پاک نہ کرے اگر

بیماری وبائی شکل اختیار کر جاتی ہے تو فرض نماز بھی گھر میں ادا کر لیں تو مسئلہ نہیں ۔ کیونکہ ایک حدیث سے ہمیں ایک دلیل ملتی ہے کہ مدینہ میں بارش بہت تیز ہو رہی تھی ، حضرت بلال ؓ نے جب آذان دی تو آپؐ نے فرمایا کہ بلال اعلان کرو کہ ’’ لوگو نماز اپنے گھروں میں پڑھو، مسجد مت آئو ، تو آپؐ نے بارش کی وجہ سے لوگوں کو نماز گھروں میں پڑھنے کا حکم دیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ نبی کریم ﷺ کاا رشاد ہے:’’میں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا تو اس نے مجھے دو چیزیں عطا فرما دیں اور ایک نہیں۔ میں نے دعا کہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ کرے تو یہ بات مجھے عطا کردی(دعا قبول فرمائی) اور میں نے دعا کی کہ ان پر باہر سے کوئی دشمن مسلط نہ کرے تو یہ بات بھی عطا کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…