پرویزمشرف کی سزا کیخلاف درخواست سپریم کورٹ میں دائر

  جمعرات‬‮ 26 دسمبر‬‮ 2019  |  15:47

اسلام آبا د(آن لائن ) سابق جنرل پرویز مشرف کی سزا اور لاش کو گھسیٹ کر ڈی چوک لانے کیخلاف درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی گئی ہے۔سماجی کارکن اقبال کاظمی کی جانب سے دائر درخواست میں وفاق، وزارت قانون اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ انسانی لاش کو چوراہے پر گھسیٹنا توہین میت ہے، فیصلے سے عدلیہ کا وقار مجروح ہوا اور اداروں میں ٹکراؤ کا تاثر بھی پھیل رہا ہے۔خصوصی عدالت کے فیصلے سے ملک میں انتشار اور بحران کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اور عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ متن میں درج ہے کہ خصوصی عدالت کے پاس آرٹیکل 6 کیخلاف کارروائی کا اختیار نہیں۔سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کو قانون سے متصادم قرار دیا جائے اور خصوصی عدالت کے دائرہ اختیار کا آئین و قانون کے تحت جائزہ لیا جائے۔خیال رہے کہ خصوصی عدالت نے 19 دسمبر کو سنگین غداری کیس میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو ہرالزام پرعلیحدہ علیحدہ سزائے موت کا حکم دیا تھا۔تین رکنی بینچ نے لکھا آئین پاکستان آرمی چیف کو اس قسم کا کوئی اختیار نہیں دیتا کہ وہ غیرآئینی اقدام اٹھائے، ایک لمحے کیلئے بھی آئین کو معطل کرنا آئین کو اٹھا کر باہر پھینکنے کے مترادف ہے، ملک میں ایمرجنسی لگا کر آئین کو معطل نہیں کیا جاسکتا۔سنگین غداری کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس وقار احمد نے تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ مشرف فوت ہوگئے تو ان کی لاش تین دن ڈی چوک پر لٹکائی جائے۔خصوصی عدالت کے رکن جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے فیصلہ سے اتفاق کیا جب کہ بینچ کے رکن جسٹس نذر اکبر نے فیصلے پر اختلافی نوٹ تحریر کیا ہے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎