بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

پی آئی سی میں جو کچھ ہوا وہاں جانے والوں نے سب کا منہ کالا کیا‘ لاہور ہائیکورٹ

datetime 17  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی )لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے کے الزام میں گرفتار وکلا ی کی رہائی اور گھروں پر چھاپوں کے خلاف کیس میں چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری اور آئی جی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

دوڈویژن بنچ کیس کی سماعت سے معذرت کرتے ہوئے اس کی فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورت کو بھجوا چکے ہیں اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت ۔ اس دوران فاضل ججز نے پی آئی سی کے سربراہ کو بھی چیمبر میں طلب کرلیا۔سماعت کے دوران عدالتی ریمارکس میں کہا گیا کہ پی آئی سی میں جو کچھ ہوا وہاں جانے والوں نے سب کا منہ کالا کیا۔اگر وکلا ء لوگوں کے حقوق کیلئے لڑ سکتے ہیں تو اپنے حقوق کے لئے کیوں نہیں کھڑے ہوئے۔ ہم اپنے آپ کو محدود کرکے لوگوں کو بتانا چھوڑ چکے ہیں کہ ہم جج ہیں۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہسپتال میں وکلا ء کو جانے کی ضرورت کیا تھی؟ جو کچھ میڈیا پر ہورہا ہے اور لوگ ویڈیو بناکرچلا رہے ہیں اس کے پیچھے بھی بہت کچھ ہے، معاملات ایک دو دن میں یہاں تک نہیں پہنچے۔عدالت نے کہا کہ جنہوں نے کلنک کا ٹیکہ لگایا وہ دو فیصد ہیں، انہوں نے 100 فیصد وکلا ء کو یرغمال بنا رکھا ہے، ایسے وکلا ء کے خلاف بار نے کیوں کارروائی نہیں کی؟سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ دو فیصد وکلا ء کے عمل سے افسوس یہ ہے کہ ہائیکورٹ کا کوئی جج وکلا ء کا کیس سننے کو تیار نہیں۔بتایا جائے وکلا ء ڈیڑھ گھنٹے تک سڑکوں پر رہے تاہم انتظامیہ نے انہیں روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟

وکیل اعظم نذیر تارڑ نے اس موقع پر کہا کہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ بار کی مکمل ناکامی ہے، وکلا ء کے اندرونی احتساب کاعمل سخت کیا جائے گا۔، پی آئی سی میں جو کچھ ہوا تمام بار ایسوسی ایشنز نے مذمت کی، وقوعہ میں 100 سے کم وکلا ء ملوث تھے مگر پولیس تمام وکلا ء کو تنگ کر رہی ہے، گرفتار وکلا ء کو قانونی امداد فراہم نہیں کرنے دی گئی۔جس پر عدالت نے کہا کہ ہائیکورٹ کو سنجیدہ خطرہ ہے، وکلا ء چھوٹے چھوٹے گروپ میں رہیں، ایک جگہ زیادہ وکلا اکٹھے نہ ہوں، یہ خطرہ ججوں کے لیے بھی ویسا ہی ہے۔ فاضل عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل کو فیصلے پر عمل درآمد کی ہدایت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…