اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

 نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ،حکومت اب کیا کرے گی؟شاہ محمود قریشی نے اہم اعلان کردیا

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

ملتان (آن لائن)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ان ہاؤس تبدیلی کا کوئی امکان نہیں، ایسی تبدیلی کے خواہش مندوں کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی، عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ نواز شریف بارے فیصلے پر مشاورت جاری ہے او روزیر اعظم یہ فیصلہ کرینگے کہ اب اس معاملے پر آگے کیسے بڑھنا ہے، مولانا فضل الرحمان کے پلان اے کی طرح بی بھی عوام کو پسند نہیں آیا، بھارت سے اختلافات کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نواز شریف نے بیان حلفی میں کہا ہے کہ جوا ن کے بھارئی شہباز شریف نے کہا وہ اس کے پابند ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر مشاورت کا عمل جاری ہے اور وزیر اعظم عمران خان یہ فیصلہ کریں گے کہ اب اس معاملے پر آگے کیسے بڑھنا ہے اور اس حوالے سے فیصلہ آج تک کرلیا جائے گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ زلفی بخاری کوئی سزایافتہ شخص نہیں تھا ان کا کیس زیر التواء تھا اور نواز شریف کے کیس سے بالکل الگ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں اور آئندہ بھی کرینگے۔ نواز شریف کے مقدمے کا ایک قانونی اور ایک انسانی پہلو ہے۔ حکومت نے نواز شریف کو پاکستان میں موجود تمام طبی سہولیات دیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر بلاول بھٹو کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں کہ ہم آصف علی زرداری کو علاج کی سہولت نہیں دے رہے ہیں تو وہ بھی قانون کا راستہ اپنا سکتے ہیں مگر میرے خیال میں وہ ایسے ہی شور مچا رہے ہیں حکومت آصف علی زرداری کا بہترین علاج کرارہی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے دھرنے والوں کو بھی سہولتیں فراہم کیں، ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی اور دھرنا پرامن طریقے سے ختم ہوا تاہم اب مولانا نے پلان بی لانچ کردیا ہے جسے عوام نے مسترد کردیا ہے اور اب ان کے پلان اے کی طرح پلان بی بھی عوام کو پسند نہیں آیا۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ان ہاؤس تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے جو لوگ ان ہاؤس تبدیلی چاہتے ہیں ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سے اختلافات کی وجہ مسئلہ کشمیر ہے اور پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کو حق خود ارادیت دلانے تک ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کے ساتھ ہمیشہ امن کی بات کی مگر بھارت نے ہمیشہ ہمارے امن کے پیغام کا منفی جواب دیا۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل پرامن طریقے سے چاہتا ہے کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی بلکہ جنگوں سے مسائل مزید بڑھتے ہیں۔ہم مقبوضہ  کشمیر میں بھارت کی جانب سے ظلم اور بربریت کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…