جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

ہزاروں سال سے بابری مسجد کے زیر استعمال زمین پر مندر بنانے کی اجازت، جمعیت علمائے اسلام(ف) کا شدید ردعمل سامنے آگیا

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

کوئٹہ(آن لائن)جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو مذہبی تعصب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں سال سے بابری مسجد کے زیر استعمال زمین پر مندر بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے جبکہ بھارت اپنی ہی ملک میں مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں

سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہم کسی بھی صورت تسلیم نہیں کرتے بابری مسجد مسلمانوں کا ایک تاریخی مسجد تھا اور ہندؤں نے بابری مسجد کو شہید کیا دنیا کو غلط پیغام دیا ہے’قومی اسمبلی میں کمیٹی کے سربراہ نے جس لب و لہجے کے ساتھ تقریر کی ہے اس لب و لہجے نے ہمارے موقف کی تائید کی ہے کہ وہ مفاہمت کے جذبے سے عاری ہیں اور ان کی گفتگو مفاہمت کی نہیں بلکہ تصادم کی لگ رہی ہے ان خیالات کااظہارانہوں نے آن لائن سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بھارتی حکومت اور بھارتی سپریم کورٹ بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے پر بزد ہیں اور ہمارے حکمران سکھ یاتریوں کو کرتار پور بارڈر کو کھول رہے ہیں جس کی ہم مذمت کرتے ہیں موجودہ حکمران مسلمانوں کو آسانیاں دینے کی بجائے ان پر اضافی ٹیکس لگانے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ سکھ برادری کے لئے ایک سال کیلئے مفت ویزا دیکر اچھا نہیں کررہے ہیں جمعیت علماء اسلام شروع دن سے یہ کہہ رہے ہیں یہ حکومت قادیانیوں اور غیر مسلم کو خوش کرنے پر تلے ہوئے ہیں مولانا عبدالواسع نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے لہجے کو تصادم کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان قبضہ گروپ کے لیے نہیں بنابات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘کل میں نے یہ بات کہی تھی کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی آتی جاتی رہتی ہے لیکن اس کے اندر ہمارے موقف کو سمجھنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی وہ ہماری پوری بات اپنی قیادت تک پہنچانے کی جرات رکھتی ہے، لہذا ہم نے انہیں پیغام دیا کہ ہمارے پاس آ تو استعفیٰ لے کر آ خالی ہاتھ نہ آیا کرو انہوں نے کہا کہ ‘قومی اسمبلی میں کمیٹی کے سربراہ نے جس لب و لہجے کے ساتھ تقریر کی ہے اس لب و لہجے نے ہمارے موقف کی تائید کی ہے کہ وہ مفاہمت کے جذبے سے عاری ہیں اور ان کی گفتگو مفاہمت کی نہیں بلکہ تصادم کی لگ رہی ہے میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کے اندر واقعی مفاہمت کی خواہش ہے تو آپ کا لب و لہجہ اور پارلیمانی گفتگو بھی اس کی تائید کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…