فضل الرحمن کے دھرنے کو سپانسر کرنیوالی ایک نہیں بلکہ 2شخصیات نکلیں، غیر ملک سے بھی خطیر رقم بھجوائے جانے کا انکشاف،رپورٹ عمران خان کو پیش

  جمعرات‬‮ 10 اکتوبر‬‮ 2019  |  12:45

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اپنے خلاف کرپشن کیسز ختم کروانے ، نیب اورحکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے فضل الرحمان کے آزادی مارچ اور دھرنے کو سپانسر کرنے کے سلسلے کا آغاز کر دیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک خفیہ ایجنسی نے وزیر اعظم اور متعلقہ حکام کو اس حوالہ سے ایک رپورٹ بھجوائی جس میں مزید انکشافات سامنے آئے۔رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ مبینہ طور پر لندن سے بھی آزادی مارچ اور دھرنے کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے خطیر رقم بھجوائی گئی ہے تاکہ مظاہرین


کو خوراک ، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولتوں میں کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔دوسری جانب جمعیت علما اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ مذہب کارڈ جمعیت علما اسلام نہیں بلکہ وزیراعظم عمران خان کھیل رہے ہیں مدینہ کی ریاست بنانا ہو یا اقوام متحدہ کے اجلاس میں ہو آزادی مارچ ہر صورت میں ہوگی حالات سے نمٹنے کیلئے مختلف پلان ترتیب دیئے گئے ہیں اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کی جانب سے سپورٹ حاصل ہے جس پر ہم ان کے مشکور ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کیا حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ 2018کے عام انتخابات میں دھاندلی کے بعد جمعیت علما اسلام نے احتجاجا حلف لینے سے انکار کیا تھا کیونکہ 90فیصد پولنگ اسٹیشن میں دھاندلی کرتے ہوئے جمعیت علما اسلام اور دیگر جماعتوں کے ایجنٹس کو 45فارم نہیں دیا گیا ۔انتخابات کے عمل میں دخل دیا گیا لیکن اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کی رائے تھی کہ اگر 2یا 4مہینوں میں کمیٹی نہیں بنائی جاتی تو پھر تمام جماعتیں مل کر احتجاج کریں گے انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کا پروگرام ہمارااکتوبر کے مہینے کے شروع میں تھا بعد میں دیگر جماعتوں کے کہنے پر 27اکتوبر کی تاریخ کا انتخاب کیا گیا ہم 27تاریخ کو کشمیر سے اظہار یکجہتی اور یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے آزادی مارچ کا انعقاد کریں گے آزادی میں مارچ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری اور نوازشریف کے داماد صفدر نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہیں جن پر ہم ان کے مشکور ہیں ۔تمام جماعتوں کی رائے ہمارے لئے قابل احترام ہے جو جتنا سپورٹ کریں ان کی مرضی ہے ہم نے آزادی مارچ ہر صورت میں کریں گے رہبر کمیٹی کے اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے رہنما اس بات پر متفق ہوچکے ہیں الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے اور اسلامی دفعات کی تحفظ، آئین کی بالادستی،جمہوری نظام کی بحالی کے لئے احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائیگا انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد تکلیف میں ہیں ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔خیبرپختونخوا میں ڈاکٹرز احتجاج پر ہے، ملک میں چھوٹے بڑے تاجر احتجاج کررہے ہیں اور ملک میں میڈیا انڈسٹری کو بھی جان بوجھ کر بحران کا شکار بنایا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ ملک خداد پاکستان کو اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا مذہب کارڈ ہم استعمال نہیں کررہے ہیں بلکہ عمران خان کبھی مدینہ ریاست کے نام پر اورکبھی اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مذہب کارڈ کھیل رہے ہیں۔

موضوعات:

loading...