خیبرپختونخوا میں تیل و گیس کے نئے ذخائر مل گئے

  جمعرات‬‮ 10 اکتوبر‬‮ 2019  |  0:38

اسلام آباد (این این آئی)خیبر پختونخواہ میں توغا ویل ون کوہاٹ میں تیل و گیس کے ذخائر مل گئے۔ سینٹر محسن عزیز کی زیر صدارت سینٹ کی قائمہ کمیٹی پٹرولیم کا اجلاس ہوا جس میں خیبر پختونخواہ میں تیل و گیس کی نئے ذخائر پر بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایاکہ خیبر پختونخواہ میں توغا ویل ون کوہاٹ میں تیل و گیس کے ذخائر ملے۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہاکہ خیبر پختونخواہ میں تیل و گیس ذخائر میں خیبر پختونخواہ آئل اینڈ گیس کمپنی کو 25 فیصد حصہ دیا جائے۔ سیکرٹری پٹرولیم نے کہاکہصوبوں کو اس طرح حصہ نہیں دیا


جا سکتا،بلوچستان حکومت نے بلاک 28 کوہلو میں پیداوار کا ڈھائی فیصد حصہ مانگا ہے۔ سینیٹر شمیم آفریدی نے کہاکہ کوہاٹ سوئی نہیں ہے یہاں پہلے آپ مقامی لوگوں کو گیس دیں گے پھر آ گے جائیگی۔ سوئی نادرن گیس حکام نے بتایاکہ کوہاٹ کے 35 گاؤں کیلئے اسکیم منظور ہو چکی ہے۔سینیٹر شمیم آفریدی نے کہاکہ کم از کم پائپ لائن تو ڈالیں دیں۔ او جی ڈی سی ایل حکام نے بتایاکہ اوجی ڈی سی ایل اس سال تیل و گیس کی تلاش کیلئے 30 نئے ویل ڈرل کریگی۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہاکہ او جی ڈی سی ایل کا مستقل ایم ڈی گزشتہ پانچ سال سے نہیں۔ قائمقام ایم ڈی نے بتایاکہ اوجی ڈی سی ایل میں تین نئے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رکھے ہیں،ان تینوں کو چودہ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ مل رہی ہے۔ سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہاکہ پانچ سال سے ادارے کا سربراہ نہیں اس کی وجوہات بتائی جائیں۔ قائمقام ایم ڈی او جی ڈی سی ایل نے کہاکہ اوجی ڈی سی ایل کے ایم ڈی کی تعیناتی کیلئے تین بار پروسیس ہوا۔ سیکرٹری پٹرولیم نے کہاکہ ملک میں گرمی کم ہونے سے ایل این جی کی طلب میں کمی ہو جاتی ہے۔ وزارت پٹرولیم حکام نے بتایاکہ ملک میں گیس کی پیداوار چار ارب مکعب فٹ یومیہ ہے۔وزارت بجلی نے کہاکہ ایل این جی کی درآمدی ایک ارب 30 کروڑ مکعب فٹ گیس یومیہ ہے۔سیکرٹری پٹرولیم نے کہاکہ ایل این جی کی درآمد پاور سیکٹر کی ضروریات کے مطابق کی جاتی ہے،پاور سیکٹر کی فیول ضروریات پر وزارت پاور اور پٹرولیم کے اجلاسباقاعدہ ہوتے رہتے ہیں۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہاکہ پائپ لائنز میں زیادہ ایل این جی گیس کے باعث مقامی گیس بند کی جاتی ہے۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہاکہ اس طرح کی صورتحال گزشتہ سال بھی میں پیدا ہوئی۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ وزارت پٹرولیم معاملے پر غور کر کے تفصیلات کمیٹی کو دے۔ سینیٹر میر کبیر شاہی نے کہاکہ آغاز حقوق بلوچستان کے تحت 13 انجینئرز کو ملازمت دی گئی مگر انکو مستقل نہیں کیا جا رہا۔ سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہاکہ اس معاملے کو فوری طور پر حل کریں۔سینیٹر نعمان وزیر نے کہاکہ صرف بلوچستان نہیں فاٹا اور خیبر پختونخواہ کے بھی ایسے مسائل حل کیے جائیں۔ سینیٹر یعقوب ناصر خان نے کہاکہ انکو ڈیلی ویج پر رکھا ہوا ہے،یہ دس سال سے ملازمت کر رہے انکو ریگولر کیا جائے۔ قائمقام ایم ڈی او جی ڈی سی ایل نے کہاکہ یہ 13 نہیں 85 ملازمین ہیں جن کو آغاز حقوق بلوچستان سے پہلے ملازمت دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ آغاز حقوق بلوچستان کے تحت 9 انجینئرز کو باقاعدہ ٹیسٹ کی بنیاد پر ملازمت دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ کسی ملازم کو ریگولر کرنے سے پہلے اشتہار دیا جائے اور ٹیسٹ لیا جائے۔پشاور کے چائے فروشوں نے تندروں کی طرح سستا ٹیرف مانگ لیا۔ سیکرٹری پٹرولیم نے بتایاکہ پشاور میں پختہ چائے فروش بہت کم قیمت میں چائے دیتے ہیں۔ شمیم آفریدی نے کہاکہ ان کی چائے عام لوگ پیتے ہیں۔ سینیٹر بہرہ مند نے کہاکہ انکو تندور والوں کی طرح سبسڈی دی جائے۔ سوئی ناردرن حکام نے بتایاکہ وزارت پٹرولیم ہدایات دیدے ہم ٹیرف کم کر دیں گے سیکرٹری پٹرولیم نے کہاکہ کمیٹی سفارش کردے اس کیلئے سروے کریں گے۔

loading...