جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

جعلی اکاؤنٹس کیس میں 7 ملزمان نے پلی بار گینگ کرلی، سینکڑوں ایکڑ زمین واپس،42کروڑ نقد بھی لوٹا دئیے

datetime 9  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)احتساب عدالت میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں سات ملزمان نے پلی بار گینگ کرلی ۔بدھ کو کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔7 ملزمان نے پلی بارگینگ کر لی، ملزمان میں حماد شاہد، عبدالغنی، طارق بیگ،محمد اقبال، محمد توصیف، عامر اور سراج شاہد شامل ہیں۔

نیب نے پلی بارگیننگ کرنے والے ملزمان کو عدالت کے روبرو پیش کر دیا۔ڈپٹی ڈاریکٹر نیب قمر شہزاد نے ملزمان کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش کر دیا ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر قمر شہزاد نے بتایاکہ ملزماں نے پلی بارگین کی درخواست دی ہے اور چیئرمین نیب نے درخواست منظور کی ہے۔ جج محمد بشیر نے ملزمان سے استفسار کیا کہ کیا آپ لوگوں پر پلی بارگین کے لئے کسی کا دباؤ ہے ؟ ملزمان نے بتایاکہ کسی قسم کا کوئی دباؤں نہیں ہے ہم اپنی خوشی سے پلی بارگینگ کر رہے ہیں،احتساب عدالت نے ملزمان کی پلی بارگین کی درخواست منظور کر لی ۔ تفتیشی افسر کے مطابق ملزم طارق بیگ نے 33، محمد اقبال نے 32 ایکڑ زمین واپس کی، ملزم عامر نے 40, سراج شاہد نے 50 ایکڑ زمین واپس کی۔تفتیشی افسر کے مطابق ملزم عبدالغنی سے 37ایکڑ، حامد شاہد سے 34 ایکڑ زمین واپس لی گئی، 10 ارب 66 کروڑ روپے کی زمین پاکستان اسٹیل مل کو واپس دلوا دی گئی ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق زمینوں کی الاٹمنٹ کے کیس میں ملزم محمد توصیف نے 42 کروڑ روپے نقد بھی واپس کئے۔تفتیشی آفسر نے بتایاکہ ملزم محمد توصیف وعدہ معاف گواہ بھی بھی بنایا گیا ہے۔تفتیشی افسر کے مطابق سات ملزمان سے ریکور کی گئی زمین کا اسٹیل مل کو واپس دے دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…