مینڈکوں کو کس مقصد کیلئے کہاں لیکر جارہے تھے؟گرفتار ملزموں نے سب کچھ اگل دیا،جانتے ہیں مقدمہ کس قانون کے تحت درج ہوگا؟پولیس چکراکر رہ گئی

  اتوار‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2019  |  14:24

لاہور( این این آئی )مینڈکو ں کی برآمدگی کے واقعہ نے پنجاب پولیس کو قانون کی کتب پڑھنے اور ماہرین سے مشاورت پر مجبور کر دیا ۔بتایا گیاہے کہ تھانہ شاہدرہ ٹائون کی حدود سے پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے مردہ اور زندہ حالات میں بڑی تعداد میں مینڈک برآمد کر لئے ۔اطلاعات کے برآمد کئے گئے مینڈکوں کا وزن کیا گیا تو وہ پانچ من نکلا۔بتایا گیا ہے کہ پولیس افسران کے لئے اس وقت مشکل کھڑی ہو گئی جب معلوم ہوا کہ ملکی قوانین کے تحت مینڈکوں کی برآمدگی ہونے سے متعلق


مقدمہ درج کرنے کے لیے کوئی قانون موجود ہی نہیں ۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق پولیس حکام نے اس سلسلے میں قانون کی شق معلوم کرنے کے لیے محکمہ وائلڈ لائف سے بھی رابطہ کیا تو اسے سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہاں سے بتایا گیا کہ مینڈک سے ان کا کوئی تعلق نہیں ۔پولیس کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اس ضمن میں موقف اپنایا ہے کہ وہ مینڈکوں کو میڈیکل کالجوں کو فراہم کرنے کے لیے اپنے ہمراہ لے جارہے تھے جہاں طلبا ء و طالبات نے ان پر تجربات کرنے تھے۔ملزمان مینڈکوں کو عرصہ دراز سے مختلف علاقوں کی چھپڑوں،دریائوں اور نالوں وغیرہ سے پکڑتے ہیں۔ڈی ایس پی شاہدرہ نے ملزمان کی حراستگی اور مینڈکوں کی برآمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ ملزمان کے خلاف کیا کارروائی کی جائے اس ضمن میں جلد فیصلہ کرلیں گے۔

موضوعات:

loading...