میکڈونلڈ کے کیشئر سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کرنے والا مبین صولت وزارت پٹرولیم کا ڈان اور کرپشن کا گاڈ فادرکیسے بنا؟ وزارت پٹرولیم نے اٹارنی جنرل کو قصور وار ٹھہرا دیا، دھماکہ خیز انکشافات

  بدھ‬‮ 18 ستمبر‬‮ 2019  |  23:31

اسلام آباد(آن لائن) وزارت پٹرولیم نے انٹرسٹیٹ گیس سروسز (آئی ایس جی ایس) کے طرف سے وکلاء پر قومی خزانہ نچھاور کرنے کی ذمہ داری اٹارنی جنرل آف پاکستان پر ڈال دی ہے، ترجمان وزارت پٹرولیم شرافگن نے کہا ہے کہ انٹر سٹیٹ گیس سروسز کے طرف سے وکلاء کی حاصل کئی گئی خدمات اٹارنی جنرل کی سفارشات پر کی تھیں وزارت کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں ہے، ترجمان نے کہا ہے کہ اٹارنی جنرل کس وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی سفارش کرتے توکمپنی یا کسی بھی حکومتی ادارے کو انکار کرنا ممکن نہیں تاہم اس معاملے


پر اٹارنی جنرل آف پاکستان سے بار بار رابطہ کرکے موقف جاننے کی کوشش کی ہے لیکن فاضل اٹارنی جنرل منصور خان نے نہ وضاحت دی ہے اور نہ اس حوالے سے کوئی بیان جاری کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزارت پٹرولیم کے ذیلی ادارہ انٹر سٹیٹ گیس سروسز کے ایم ڈی مبین صولت نے اپنی کرپشن چھپانے اور مخالفین کو بلیک میل کرنے کیلئے دو لافرم کی خدمات بھاری معاوضوں پر حاصل کر رکھی ہیں، اس ایک لاء فرم کا تعلق لندن سے ہے جس کا ریجنل آفس اسلام آباد میں بھی ہے جبکہ دوسری لاء فرم کندی اینڈ کندی کا آفس وفاقی دارالحکومت میں ہے، میکڈونلڈ کے کیشئر سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کرنے والے مبین صولت نے وزارت پٹرولیم کا ڈان اور کرپشن کا گاڈ فادر بننے کیلئے ملک اور بیرون ملک کی نامور لاء فرموں کی خدمات حاصل کئی ہیں تاہم مخالفین پر اپنا رعب اور دباؤ برقرار رکھا جائے اس وکلا کی خدمات کے بعض 10لاکھ کی مقدمہ کی فیس دی جاتی ہے جبکہ بعض مقدمات میں بھاری رقوم دی جاتی ہیں، ملک کے قواعد وضوابط کے مطابق کسی بھی سرکاری ادارہ کو کسی وکیل کو 1لاکھ روپے سے زائد فیس نہیں دی جا سکتی، تاہم اگر کسی مقدم میں زائد فیس ادا کرنی ہو تو وزارت قانون سے اجازت پیشگی طلب کی جائے گی لیکن وزارت پٹرولیم سکیٹر کے ”ڈان“ مبین صولت نے نہ وزارت قانون و انصاف سے اجازت طلب کی ہے اور نہ کسی دیگر اعلیٰ اختیارات حامل ادارہ سےبلکہ من مرضی سے لندن کی لاء فرم جن کو نین لاء فرم اور پاکستان کی کندی اینڈ کندی ایسوسی ایٹ سے ہائر کرکے بھاری رقوم ادا کئی گئی ہیں، جو کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف بھی ہے پر یہ کورٹ نے ای او پی آئی کے تاریخی فیصلہ میں وکلاء کی خدمات کیلئے گائیڈلائن دے رکھی ہے، اس سکینڈل میں ملک کے بڑے بڑے وکلاء جن میں بابر ستار اور اعتزاز احسن کو بھی نوٹسز جاری ہوئے تھے جنہوں نے بھاری فیس وصول کیں تھیں لیکن گیس سکیٹر کے ڈان مبین صولت نےسپریم کورٹ اور وزارت قانون کے احکامات نظرانداز کرکے من پسند وکیلوں کی خدمات کی گئی ہیں اور قومی خزانہ ان پر نچھاور کیا جارہا ہے اس حوالے سے جب ترجمان وزارت پٹرولیم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے وکیلوں کی خدمات اور بھاری فیس کی ادائیگیوں کی ذمہ داری براہ راست اٹارنی جنرل آٖف پاکستان کے کندھوں پر ڈال دی ہے بعد میں کہا کہ اس حوالے سے وزارت کا کوئی کردار نہیں بلکہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پاس تمام اختیارات ہیں اور پھر کہا کہاٹارنی جنرل کے حکم کے بعد ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے، تاہم اٹارنی جنرل اس حوالے سے مکمل خاموش ہیں، آئی ایس جی ایس کے ایم ڈی مبین صولت جو میکڈونلڈ میں کیشئر تھے نے کمپنی پر گزشتہ12سالوں سے قبضہ کر رکھا ہے اور پوری وزارت میں اپنا جال نچھا رکھا ہے، افسران کو بیرونی ممالک کے دورے کرانا اور مہنگے سٹوروں پر شاپنگ کرانے کے بعد وزارت کے سیکریٹری حضرات کے منہ بند کر دیتے ہیں، جبکہ ادارہ کے اندر اہل افسران کو نکالا گیا ہے اور دھن پر ناچنے والے افسران کو بھرتی کیا گیا ہے، باؒلخصوص من شبانہ کی ادارہ میں نوکری دے کر گورنمنٹ ھولڈنگ کمپنی میں جی ایم لگانا بدیانتی اور اقرباء پروری کا منہ بولتا ثبوت ہے، وزارت پٹرولیم کے تمام بڑے افسران مبین صولت سے خائف ہیں کیونکہ اس نے ان تمام کرپٹ افسران کی ریکارڈ رکھا ہوا ہے کہ افسران کو بلیک میل کرانا ہے اس حوالے سے آئی ایس جی ایس کا ترجمان مکمل خاموش ہیں۔

loading...