عمران خان کشمیر کا سودا کرچکا ہے، دورہ امریکا میں سب کچھ طے پایا تھا،اہم سیاسی شخصیت نے انتہائی سنگین الزامات عائد کردیئے

  اتوار‬‮ 25 اگست‬‮ 2019  |  22:21

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ناکام ترین ہے جو کشمیر کے معاملے پر ثابت ہوچکا ہے۔ مسئلہ کشمیر ہم بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں اور اسی مسئلے پر ہمارے بجٹ کا ایک بڑا حصہ مختص ہوتا رہا ہے لیکن موجودہ حکمرانوں نے کشمیر کا سودا کیا۔ عمران خان کے دورہ امریکا کے دوران کشمیر پر ڈیل ہوچکی ہے۔صوابی میں شہید محمد شعیب کی برسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ مینڈیٹ چوری کرنیوالوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اس


قسم کے ہتھکنڈوں سے سیاسی جماعتوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اور مضبوط ہوں گے۔ کشمیر بارے پاکستان کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ کشمیر میں ہونیوالے مظالم میں مسلط وزیراعظم بھی شامل ہیں، صرف مودی کو مؤرد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا، بھارتی وزیراعظم اگر کشمیر میں ظلم کررہا ہے تو پاکستان کے سلیکٹڈ وزیراعظم بھی اس میں شریک ہیں،ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے، کشمیر سمیت جہاں بھی ظلم ہوگا ہم اسکے مخالفت کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمیں باچاخان نے سکھایا ہے کہ ظالم چاہے جتنا بھی طاقتور ہو، ہم مظلوم کے ساتھ ہوں گے۔کشمیر کا مسئلہ عمران خان اور مودی حل نہیں کرسکتے، اقوام متحدہ کو مداخلت کرنا ہوگا۔کشمیریوں کا فیصلے کا حق دینا چاہئیے کہ وہ کس ملک کے ساتھ جانا چاہتے ہیں یا آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کے معاملے پر گرما گرم تقریریں کرنے والوں سے پوچھا چاہتے ہیں کہ کونسا ہندوستانی سفارتخانہ پاکستان میں بند ہوچکا ہے۔ ملک کے حکمران اب بھی امریکا کی غلامی کررہے ہیں لیکن اس کا فائدہ نہیں بلکہ نقصان پوری قوم اٹھارہی ہیں۔ پڑوسی ممالک سے تعلقات بارے ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کو گیم چینجر کہنے والے آج کہاں ہیں؟ آج چین کی بھی پاکستان سے نہیں بن رہی۔جن ممالک کے حکمرانوں کے لئے عمران خان ڈرائیونگ کرتے تھے انہوں نے بھی کشمیر کے مسئلے میں پاکستان کا ساتھ نہیں دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خارجی طور پر مکمل تنہا کھڑا ہے۔ آج متحدہ عرب امارات نے بھارتی وزیراعظم کو ملک کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیا لیکن پاکستان کچھ نہ کرسکا۔ ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ ملک چلانے والے عوام کو تباہی کی طرف لے جارہے ہیں،موجودہ حالات میں ثابت ہوچکا ہے کہ حکومت سمیت تمام ادارے ناکام ہیں، اقتصادی میدان میں ناکامی کی وجہ سے مڈل کلاس ختم ہورہا ہے، ان تمام حالات کے ذمہ دار صرف حکومت نہیں وہ تمام قوتیں ہیں جو اس ملک کو چلانے کے دعویدار ہیں۔ اے این پی کے صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ دو قومی نظریہ یہاں امیر اور غریب کا نظریہ بن گیا ہے،امیر امیرتر اور غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے۔ سیاسی قائدین کو ملنے والے دھمکیوں بارے بات کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ایک بار پھر سیاسی نمائندوں کو ایک طرف کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کو دھمکیاں ملنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین مسلسل دھمکیوں کی زد میں ہیں، انہیں اور صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک کو بھی عید سے پہلے دھمکیاں مل چکی ہے اور اب دانیال بلور کو دھمکی آمیر ٹیلیفون کالز موصول ہوئی ہیں۔اس قسم کی دھمکیاں ہمیں عوام سے دور نہیں کرسکتا اگر ہمیں مارنا چاہتے ہیں تو آئیں ہمارے سینے حاضر ہیں، پہلے بھی قربانیاں دے چکے ہیں اور اب بھی دیتے رہیں گے، لیکن عوام کا ساتھ کبھی  نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں دھمکیاں اس لئے دی جارہی ہیں کہ ہم سچ بول رہے ہیں، یہ دھمکیاں ہمیں سچ بولنے سے نہیں روک سکتا۔

موضوعات:

loading...