سٹیٹ بینک نے شر ح سود میں مزید اضافے کا اعلان کردیا،ملک میں مہنگائی کی نئی لہر آئے گی،قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا خطرہ

  منگل‬‮ 16 جولائی‬‮ 2019  |  18:34

کراچی (این این آئی) گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے آئندہ 2ماہ کیلئے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں مزید مہنگائی بڑھنے کا امکان ہے۔کراچی میں گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا ہے، شرح سود کا اطلاق 17 جولائی سے ہوگا اور نئی پالیسی دو ماہ کیلئے ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق 100 بیسز پوانٹس اضافے کے نتیجے میں شرح سود بڑھ کر 13.25 فیصد کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ قیمتوں میں


اضافے کا تناظر بھی شرح سود میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔رضا باقر نے کہا کہ مہنگائی کی شرح ہمارے اندازے سے کچھ زیادہ ہے اور اوسط مہنگائی بھی کچھ بڑھنے کا امکان ہے، لیکن آئندہ مالی سال میں مہنگائی کافی حد تک نیچے آجائے گی، رواں مالی سال اوسط مہنگائی 11 سے 12 فیصد رہ سکتی ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ زری پالیسی کمیٹی نے اپنے 16 جولائی 2019 کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 100 بی پی ایس بڑھا کر 13.25فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو 17 جولائی 2019 سے مثر ہوگا۔ اس فیصلے میں 20مئی 2019 کے زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد سے شرح مبادلہ میں کمی کی بنا پر مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دبا اور یوٹیلٹی کی قیمتوں میں حالیہ ردوبدل کیا یک بارکے اثر اور مالی سال 20 کے بجٹ کے دیگر اقدامات کے نتیجے میں مختصر مدت میں ہونے والی مہنگائی کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔اس فیصلے میں طلب کے مدھم پڑتے ہوئے اظہاریوں کی بنا پر مہنگائی کے دبا میں کمی کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے۔ ان عوامل کے پیش نظر زری پالیسی کمیٹی کو توقع ہے کہ مالی سال 20 میں اوسط مہنگائی 11-12 فیصد رہے گی جو پہلے کی پیش گوئی سے زیادہ ہے۔ تاہم مالی سال 21 میںجب حالیہ اضافے کے بعض اسباب کا ایک بار کا اثر گھٹے گا تو مہنگائی میں خاصی کمی آنے کی توقع ہے۔2۔ شرح سود کے بارے میں اس فیصلے کے حوالے سے زری پالیسی کمیٹی اس نقطہ نظر کی حامل ہے کہ ماضی کے عدم توازن کی وجہ سے شرح سود اور شرح مبادلہ میں تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ آگے چل کر زری پالیسی کمیٹی آئندہ کے معاشی حالات اور اعدادوشمار کے مطابق اقدامات کرنے کے لیے بھی تیار رہے گی۔ مہنگائی میں غیرمتوقع اضافے جو اس کے منظر نامے پر منفی اثر ڈالیںمزید معتدل سختی کی طرف لے جاسکتے ہیں۔ دوسری طرف ملکی طلب میں توقع سے زیادہ نرمی اور مہنگائی میں کمی زری حالات میں نرمی کی بنیاد فراہم کرے گی۔ اس فیصلے پر پہنچنے کے لیے زری پالیسی کمیٹی نے 20مئی 2019 کو منعقدہ زری پالیسی کمیٹی اجلاس سے لے کر اب تک معاشی حالات، حقیقی بیرونی اور مالیاتی شعبوں میں ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے نتیجے میں زری حالات اور مہنگائی کے منظرنامے پر غورو خوض کیا تھا۔ گذشتہ زری پالیسی کمیٹی اجلاس کے بعدتین کلیدی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اول، حکومت پاکستان نے مالی سال 2020 کا بجٹ منظور کیا ہے جس میں محاصل کو بڑھانے کے اقدامات کے ذریعے ٹیکس بیس کو وسیع کرتے ہوئے مالیاتی پائیداری کو معتبر انداز میں بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ توقع ہے کہ یوٹیلٹی کی قیمتوں اور بجٹ کے دیگر اقدامات سے مالی سال 20 کی پہلی ششماہی میں قیمتوں میں ایک بار خاصا اضافہ ہوگا۔ دوسری طرف حکومت نے اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کا سلسلہ بھی ختم کرنے کا عزم کیا ہےجس سے مہنگائی کے منظرنامے میں معیاری بہتری آئے گی۔ دوم، آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت کے تحت پہلی قسط کی موصولی، تیل کی سعودی سہولت کے بروئے کار آنے اور کثیر طرفہ و دوطرفہ شراکت داروں کی جانب سے امداد کے دیگر وعدوں کے نتیجے میں بیرونی مالکاری کا منظر نامہ مزید مضبوط ہوا ہے۔ جاری کھاتے کا خسارہ مسلسل گھٹ رہاہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی دبا میں کمی آتی جارہی ہے۔ دوسری جانب پچھلے زری پالیسی کمیٹی اجلاس کے بعد سےشرح مبادلہ میں کمی سے مہنگائی کا دبا بڑھا ہے۔ آخرا، بین الاقوامی محاذ پر ابھرتی ہوئی منڈیوں کی جانب احساسات بہتر ہوئے ہیں اور امریکہ میں پالیسی ریٹ میں کٹوتی کی زیادہ توقعات ہیں۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 19 میں ملکی طلب کے کم ہوکر تقریبا 3 فیصد اور جی ڈی پی نمو کے 3.3 فیصد ہوجانے کا امکان ہے۔ اگرچہ موجودہ بلند تعدد اظہاریے (high frequency indicators)معاشی سرگرمی میں سست رفتاری کی نشاندہی کرتے ہیں تاہم آئی ایم ایف کی مدد سے چلنے والے پروگرام،شعبہ زراعت کی بحالی اور برآمدی صنعتوں کے لیے حکومتی ترغیبات کے بتدریج اثر سے پیدا ہونے والے مارکیٹ کے بہتر احساسات کے نتیجے میں سال کے دوران یہ صورت ِحال تبدیل ہونے کی توقع ہے۔اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ مالی سال 20 میں حقیقی جی ڈی پی نمو لگ بھگ 3.5 فیصد رہے گی مگر یہ تازہ ترین دستیاب معلومات سے مشروط ہے۔رضا باقر نے کہا کہ بیرونی حالات میں مسلسل بہتری دکھائی دے رہی ہے اورجولائی تا مئی مالی سال 19 میں جاری کھاتے کا خسارہ 29.3 فیصد کم ہوکر 12.7 ارب ڈالر ہوگیا ہیجبکہ یہ پچھلے سال کی اسی مدت میں 17.9 ارب ڈالر تھا۔اس بہتری کی بنیادی وجہ درآمدی سکڑا اور کارکنوں کی ترسیلات ِزر کی بھرپور نمو ہے۔ برآمدی حجم بڑھتا رہا ہے حالانکہ اکائی قیمتوں میں کمی کے باعث برآمدی قدریں پست رہی ہیں جیسا کہ حریف برآمدی ممالک کو بھی تجربہ ہوا ہے۔ برآمدی کارکردگی میں آئندہ تبدیلیوں کا انحصار بھی ہمارے تجارتی شراکت داروں کی شرح نمو اورملکی ساختی رکاوٹیں دور کرنے میں پیش رفت پر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت کی پہلی قسط کی موصولی کے بعد 12 جولائی 2019 کو اسٹیٹ بینک کے زر ِمبادلہ کے ذخائر بڑھ کرتقریبا 8 ارب ڈالر ہوگئے ہیں۔ سعودی تیل کی سہولت سمیت دیگر عالمی قرض دہندگان کی جانب سے مزید رقوم کی آمد اور جاری کھاتے کے خسارے میں مسلسل بہتری کے نتیجے میں توقع ہے کہ ذخائر مالی سال 20 کے دوران مزید بڑھیں گے۔ ماضی میں شرح مبادلہ کی زائد قدر سے نمٹنے کے لیےحقیقی موثر شرح مبادلہ میں جو ردوبدل ضروری تھا، شرح مبادلہ میں حالیہ تبدیلی کے نتیجے میں اس کا بڑا حصہ مکمل ہوگیا ہے۔ اگر چہ شرح مبادلہ لچکدار ہے اور مارکیٹ کے مطابق اس کا تعین ہوتا ہے تاہم اسٹیٹ بینک بازار ِمبادلہ میں انتشار سے نمٹنے کے لیے کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 19 میں مجموعی مالیاتی اور بنیادی خسارے دونوں بڑھے جس کا بڑا سبب محاصل کی وصولی میں نمایاں کمی، بجٹ سے بڑھ کر سودی ادائیگیاں اور امن و امان سے متعلقاخراجات تھے۔مالی سال 20 کے بجٹ میں ٹیکسیشن نظام میں طویل عرصے سے موجود کمزوریوں کو دور کرکے اور معاشی سرگرمیوں کی دستاویزیت بڑھا کر مالیاتی بگاڑ کے حالیہ رجحان کو معتبر انداز میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ٹیکس وصولی کے ایک بلند ہدف اور اخراجات پر سخت کنٹرول کی مدد سے بجٹ میں بنیادی خسارے میں نمایاں کمی کرنے کا منصوبہ رکھا گیا ہے۔ اس مالیاتی یکجائی سے اسٹیٹ بینک کی استحکام کی پہلے سے جاری پالیسیوں کو تقویت ملے گی۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ زری پالیسی کے نقطہ نظر سے اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کا سلسلہ ختم کرنے کے مضبوط حکومتی عزم اور اسٹیٹ بینک کی تحویل میں واجب الادا قرضوں کی تشکیل نو کے لیے واجبات کے انتظام کے آپریشن پر عملدرآمد سے زری پالیسی کی ترسیل کو فائدہ پہنچے گا جبکہ آگے چل کر مارکیٹ کی مہنگائی کی توقعات بھی معتبر طور پر قابو میں رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ استحکام کے اثرات کی عکاسی کرتے ہوئے نجی شعبے کے قرضے کی نمو بھی کم ہونا شروع ہوگئی ہے۔یکم جولائی سے 28 جون مالی سال 19 کے دوران نجی شعبے کا قرضہ 11.4 فیصد بڑھا ہے جبکہ پچھلے سال کے اسی عرصے میں 14.8 فیصد بڑھا تھا۔ قرضے کی رفتار میں کمی حقیقی لحاظ سے زیادہ نمایاں تھی کیونکہ نجی شعبے کے قرضے میں زیادہ تر اضافہ خام مال کی بلند قیمتوں کی وجہ سے ہوا جس نے کاروباری اداروں کی جاری سرمائے (working capital) کی ضروریات کو بڑھا دیا۔اس کے ہمراہ بلند میزانیہ قرضوں کے نتیجے میں بینکاری نظام کے خالص ملکی اثاثوں میںتیزی سے اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر یکم جولائی سے 28 جون مالی سال 19 کے دوران زر ِوسیع (ایم ٹو) 12.2 فیصد بڑھ گیا جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت میں 10.0 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ آگے چل کر رسد ِزر کی ہیئت ترکیبی تبدیل ہونے کی توقع ہے کیونکہ بینکاری نظام کے خالص بیرونی اثاثوں میں بہتری کی پیشگوئی ہے جبکہ خالص ملکی اثاثوں کی نمو میں نمایاں کمی آئے گی۔ اسٹیٹ بینک سے بلند حکومتی قرض،شرح مبادلہ میں کمی کے مخر اثر،ایندھن کی ملکی قیمتوں میں اضافے اورغذائی اشیا کے بڑھتے ہوئے نرخوں کے باعث مالی سال 19 میں مہنگائی نمایاں طور پر بڑھ کر 7.3 فیصد ہوگئی۔جون 2019 میں مہنگائی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت (CPI) 8.9 فیصد تھی اور یوٹیلٹی کی قیمتوں میں ردوبدل کے ایک بار کے اثر اور مالی سال 2020 کے بجٹ کے دیگر اقدامات کے باعث مختصر مدت میں اس کے مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ مالی سال کی دوسری ششماہی میں یہ دبا کم ہونے کا امکان ہے اور زری پالیسی کمیٹی کو توقع ہے کہ مالی سال 20مہنگائی اوسطا 11-12 فیصد رہے گی۔زری پالیسی کمیٹی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مہنگائی کی ان پیش گوئیوں سے ظاہر ہونے والی حقیقی شرح سود اور آج کا پالیسی ریٹ کا فیصلہ مجموعی طلب کی دوری کمزوری کے پیش نظر موزوں سطح پر ہیں۔ادھر اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود میں اضافے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کی نئی لہر آئے گی اور قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا خطرہ ہے، شرح سود بڑھنے سے سب سے زیادہ نقصان خود حکومت کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ حکومت اپنے خسارے کو پورا کرنے کے لیے بینکوں سے قرض لے رہی ہے اور بلند شرح سود سے حکومت کو سود کی ادائیگی کی مد میں اضافی سوا تین سو ارب روپے ادا کرنا پڑیں گے۔ماہرین کے مطابق شرح سود میں مسلسل اضافے سے سرمایہ کاری کم ہو گی اور نجی شعبے کے بینکوں سے قرض لے کر کاروبار شروع کرنا مشکل ہو جائیگا۔

loading...