منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل تحریک انصاف نہیں بلکہ کس اہم سیاسی جماعت کے ممبر نے پیش کیا؟منظوری میں کون کون شامل تھا؟ترجمان وزیراعلیٰ نے وضاحت کردی

datetime 14  مارچ‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ عمران خان نے 23سال قبل سیاست کاآغاز غریب عوام کے مفادات کے تحفظ کیلئے کیا تھا۔ ہمیں فخر ہے کہ وزیراعظم پاکستان ایسا کوئی قدم نہیں اٹھاتے جو وطن عزیز میں بسنے والے عوام کی امنگوں کے خلاف ہو۔ عمران خان کی محنت اور کوششوں کی بدولت ہی آج ہم سب عوامی ضدمت کیلئے اپنے عہدوں پر موجود ہیں۔وزیراعظم پاکستان سادگی اور بچت کی پالیسی پر گامزن ہیں اور پنجاب حکومت انہی کے وژن کو آگے بڑھائے گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کو ملنے والی مراعات کے حوالے سے میڈیا پر چلنے والی خبر درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی سے اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کے بل میں وزیراعلیٰ پنجاب کو خصوصی گھر یا ملازمین سمیت کوئی خاص مراعات شامل نہیں ہیں۔پنجاب سمبلی سے منظور شدہ بل میں وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے صرف مناسب سکیورٹی فراہم کرنے کا ذکر ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ مناسب سکیورٹی بھی 2002کے بعد سے پنجاب کے تمام سابق وزرائے اعلیٰ کو فراہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزکورہ بل میں تنخواہوں میں اضافے کی تجویز پر وزیراعظم پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب نے ناگواری کا اظہار کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر شہباز گل نے آج یہاں ڈی جی پی آر میں میڈیا کے نمائیندوں سے گفتگومیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس بل کے مطابق اراکین پنجاب اسمبلی کی بنیادی تنخواہ خیبر پختونخواہ کے اسمبلی ممبران کے برابر ہو گئی ہے۔اس سے قبل پنجاب کے ممبران صوبائی اسمبلی کی بنیادی تنخواہ 18ہزار رپے ماہانہ تھی جو ا س بل کی سفارشات کی روشنی میں 80ہزار روپے مہینہ کی گئی ہے۔ ڈاکٹر شہباز گل نے بتا یا کہ اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل مسلم لیگ (ن)کے ایک ایم پی اے نے پیش کیاجس کو ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ایک سوال کے جواب میں ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ اسمبلی سے پاس ہونے والا بل گورنر پنجاب کے دستخط کے بعد قانون بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے قانون پرتجزیہ ضرور کیا جا سکتا ہے تاہم ایوان کی متفقہ سوچ کو رد نہیں کیا جاسکتا اسی لیے ہماری پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اسے دوبارہ زیر غور لایا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…