سٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی جاری کردی،شرح سود میں مزیداضافہ ،روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ کیوں ہوا؟ حیرت انگیزانکشافات

  جمعرات‬‮ 31 جنوری‬‮ 2019  |  19:06

اسلام آباد (این این آئی) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں 25 بیسز پوائنٹ کا اضافہ کرکے شرح سود 10.25 فیصد مقرر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اب بھی بلند ہے تاہم پچھلے بارہ ماہ میں اس خسارے میں کمی ہو رہی ہے،معیشت کو چیلنجز درپیش ہیں ،ہمیں مالیاتی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دونوں کم کرنے کی ضرورت ہے، امید ہے ملکی برآمدات میں اضافہ ہو گا،سعودی عرب سے مؤخر ادائیگی پر تیل لینے کے معاملات طے پا گئے ہیں ، معاہدے پر دستخط سعودی ولی عہد


کے دورہ پاکستان کے موقع پر کئے جائیں گے،کچھ آئی ایم ایف کی مانیں گے کچھ اپنی منوائیں گے،عرب امارات سے ایک ارب ڈالر آگیا، مزید دو ارب ڈالر ملیں گے۔جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران نئی مانیٹری پالیسی کااعلان کرتے ہوئے گور نر سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے کہا کہ افراط زر میں رواں سال گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافہ ہوا،نجی شعبے نے گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال دگنا قرض لیا۔ انہوں نے کہاکہ مالیاتی خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے ،مالیاتی خسارہ میں کمی حکومت کیلئے چیلنج ہے۔ طارق باجوہ نے کہاکہ جاری کھاتوں کا خسارہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر سے پورا کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے یکم فروری سے ڈسکونٹ ریٹ میں 25 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ یکم فروری سے انٹرسٹ ریٹ 10 اعشاریہ 25 فیصد ہو گیا۔ گور نر سٹیٹ بینک نے کہا کہ روپے کی قیمت برقرار رکھنا درامد پر سبسڈی دینے کے مترادف تھا۔ انہوں نے کہاکہ آپ نے اپنی انڈسٹری کیلئے مشکلات پیدا کیں،روپے کی قیمت میں کمی سے مقامی انڈسٹری کو کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تخمینہ 13 سے 14 ارب ڈالر ہے۔ انہوں نے کہاکہ رواں مالی سال کی تقریبا تمام فنانسنگ ضرورت حاصل کر کی گئی ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ سعودی عرب سے تیل کی قرض پر خریداری پر معاملات طے پاگئے،معاہدہ پر سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے دوران کئے جائیں گے۔ طارق باجوہ نے کہا کہ روپے کی قدر کا تعین مارکیٹ کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ روپے کے اوور ویلیو ہونے سے بھی صنعتیں بند ہوتی ہیں،ہم نے اپنی صنعت کو نقصان پہنچا رکھا تھا۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کی طرف سے ڈو مور کا مطالبہ جاری رہے گا،جب پروگرام میں جائیں گے تو دیکھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ کچھ آئی ایم ایف کی مانیں گے کچھ اپنی منوائیں گے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ موجودہ مالی سال برآمدات میں اضافے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ سال کرنٹ اکاونٹ خسارہ 13 سے 14 ارب ڈالر رہے گا۔ گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ موجودہ مالی سال کیلئے مالی ضروریات کا بندوبست کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عرب امارات سے ایک ارب ڈالر آگیا، مزید دو ارب ڈالر ملیں گے۔گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق دسمبر 2018 میں کنزیومر پرائس انڈیکس 8 سے اوپر رہا جب کہ گندم کی فصل میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔

موضوعات:

loading...