مقامی بچت اور سرمایہ کاری کم ترین سطح تک آگئی ،وزیرخزانہ اسدعمر نے بڑا اعتراف کرلیا، افسوسناک انکشافات

  ہفتہ‬‮ 12 جنوری‬‮ 2019  |  20:10

کراچی(این این آئی) وفاقی وزیرخزانہ اسد عمرنے کہاہے کہ 23 جنوری کو منی بجٹ پیش کیا جائے گا، منی بجٹ میں ٹیکس بے ضابطگیوں کو دور کیا جائے گا، ٹیکسوں کے حوالے سے ہر قسم کی تبدیلی پارلیمنٹ کی منظوری سے ہوگی،پاکستان میں مقامی بچت اور سرمایہ کاری کم ترین سطح تک آگئی ہے، یہی وجہ ہے کہ منی بجٹ میں کھپت کو کم کرنے اور سرمایہ کاری بڑھانے کے اقدامات ہوں گے۔23جنوری کو پیش کیے جانے والی فائنانس بل میں کاروبار میں آسانی اور سرمایہ کاری کے فوائد نظر آئیں گے،اکیسویں صدی میں معیشت کو نجی شعبہ چلاتا ہے،

لہذا ہمیں ترجیحات کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں، جب تک ہم ایسا ماحول قائم نہیں کریں گے، جس میں نجی سرمایہ کاروں کو بہتری نظر نہ آرہی ہو تو وہ چاہے کتنے ہی محب وطن کیوں نہ ہوں، ایک حد سے زیادہ سرمایہ کاری نہیں کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کوکراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پرتاجربرادری سے خطاب اور میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا کہ ہمیں علم ہے کہ ماضی میں قلم کی ایک جنبش سے ہر روز کیا کیا کام کیا گیا ہے، بغیر کسی چیک بیلنس کے کوئی اختیار ہو تو وہ اختیار نقصان دہ ہوگا، ایف بی آر کے سیچوریٹری ریگولیٹری آرڈرز(ایس آر او)کے اجرا کا اختیار ختم کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت 23 جنوری کو منی بجٹ پیش کرے گی، منی بجٹ میں ٹیکس انامیلز کو دور کیا جائے گا اور ٹیکسوں کے حوالے سے ہر قسم کی تبدیلی پارلیمنٹ کی منظوری سے ہوگی، منی بجٹ کے حوالے سے کراچی چیمبراگلے ہفتے اپنی ٹیم اسلام آباد بھیجے۔وزیرخزانہ نے کہا کہ 23 جنوری کو آنے والے فنانس بل میں کاروبار آسان بنانے کے اقدامات بروئے کار لائے جارہے ہیں، منی بجٹ میں کھپت کو کم اورسرمایا کاری بڑھانے کے اقدامات ہوں گے، سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ سیونگ کو بھی بڑھانا ہے، پاکستان میں مقامی بچت اورسرمایہ کاری کم ترین سطح تک آگئی ہے، سرمایہ کاری ہوگی تو معیشت آگے بڑھے گی اورروزگار پیدا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے منشور میں یہ لکھا تھا کہ کاروبار کی آسانی کے لیے مواقع پیدا کریں گے، کراچی پاکستانی معیشت کا دل ہے، نئے مالیاتی بل میں کاروباری طبقے کے لیے آسانیاں نظر آئیں، سرمایہ کاری ہوگی تومعیشت آگے بڑھے گی، سرمایہ کاری بڑھے گی تو نوکریاں پیدا ہوں گی، سرمایہ کاری کے لیے سہولتیں دی جائیں گی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ ایسی معاشی پالیسی بنائے جس سے کمزورطبقے کی مشکلات دور ہوں، ہمیں ترجیحات کے مطابق فیصلے کرنا چاہئیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ 21ویں صدی میں میں معیشت کا شعبہ نجی سیکٹرچلاتا ہے، نجی شعبے کی سہولت کے لیے ماحول بنایا جاتا ہے تاکہ معیشت بہترہو۔ ماضی میں نجی شعبے کے لیے مسائل پیدا کیے گئے، کاروبارمشکل بنایا گیا، کاروبار کے لیے سازگارماحول ہمارے منشورکا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کاروبارکے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے کچھ فیصلے 23 جنوری کوپتہ چلیں گے، 23جنوری کوفنانس بل پیش کرنے جا رہے ہیں۔فنانس بل سمیت دیگراقدامات بھی کیے جا رہے ہیں، سرمایہ کاری ہوگی تو معیشت بہترہوگی اوربرآمدات بڑھیں گی۔انہوں نے کہا کہ فنانس بل میں سرمایہ کاری کے لیے بھی اہم مراعات شامل ہیں، غریب طبقے کی مدد کرناحکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ بجلی وگیس کی قیمت، ٹیکس وصولی میں غریب طبقے کو سامنے رکھ کر فیصلے کیے، غریب طبقے پرکم سے کم بوجھ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔اسدعمر نے کہا کہ پاکستان میں بچت اورسرمایہ کاری کارحجان دنیا کے مقابلے بہت کم ہے، ایسے اقدامات کوماضی میں نہیں دیکھا گیا اس وجہ سے معیشت کونقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ ایسی وجوہات سے ہی گزشتہ سال پاکستان کا تجارتی خسارہ خطرناک حد تک پہنچا۔انہوں نے کہاکہ جنوبی ایشیا میں علاقائی تجارت نہ ہونے کے برابر ہے، خطے میں پاکستان کی تجارت کو بڑھایا جائے گا، درآمدات کی بنیاد پر کھپت پر قابو پایا جائے گا ، کھپت کی بنیاد پر معیشت چلانے سے تجارتی خسارہ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے جب کہ کاروبار میں آسانی ہیدا کرنے کے لیے ہرماہ وزیراعظم کی صدارت میں اجلاس منعقد کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ترکی سے ہمارے تعلقات اچھے ہیں لیکن تجارت نہ ہونے کے برابر ہے،اپریل میں پاک ترکی سرمایہ کاری سے متعلق معاہدے پر دستخط ہوں گے۔اسد عمر نے کہا کہ قائد اعظم ملک کے اندر بھی اور خطے میں بھی امن چاہتے تھے،اسی لیے وزیراعظم عمران خان نے اپنی پہلی تقریرمیں مذاکرات کی بات کی تھی، بھارت سے کشمیر اور تجارت بڑھانے پر بات کرنا چاہتے ہیں، پاکستانی فوج اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ بھارت سے تمام معاملات بات چیت کے ذریعے طے کیے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ بھارت نے پاکستانی اعلان کا مثبت جواب نہیں دیا، وزارت خارجہ نیتمام سفیروں کومعاشی سفارتکاری کے فروغ دینیکے لیے اقدامات کیے ہیں، آرمی چیف بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے مسائل بات چیت سے حل ہوں، گیس کا مسئلہ منصوبہ بندی کی کمی سے پیدا ہوا، منصوبہ بندی کی کمی اور فوری ایکشن نہ لینے پرہی کارروائی کی گئی،جوگیس کیمسائل سامنے آئے وہ بلکل نہیں آنے چاہیے تھے۔وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ روزانہ مختلف اداروں کے وفود آتے ہیں کہ ہمارے اتنے پیسے پھنسے ہوئے ہیں، پرانے پاکستان کے قرضے آسمان سے باہرنکل رہے ہیں، آئندہ مالیاتی بل میں اسٹاک ایکسچینج کے لیے اچھی خبر ہوگی، پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت جے آئی ڈی سی لے کر آئی، تاجر ایسی تجاویز لے کر آئیں جس سے حکومت کا کاروبار بھی چلتا رہے اور مسئلہ بھی حل ہو جائے۔اس موقع پر تاجروں نے وزیرخزانہ اسد عمر سے کڑے سوالات کیے، ایک تاجر نے کہا کہ کراچی میں 16دن انڈسٹری کو گیس نہ مل سکی، حالانکہ دسمبروہ مہینہ ہوتا ہے جب شپمنٹس جاتی ہیں۔اسدعمرنے کہا کہ تاجر برادری اپنی ٹیم اسلام آباد بھیج دیں،وہاں مسائل پر مزید بات کریں گے،ٹیکسز پر کوئی تبدیلی چاہتے ہیں تو یہ فیصلے فوری نہیں ہونے چاہئیں،ٹیکسز کوپارلیمنٹ میں بحث کیبعد تبدیل ہونا چاہیے، میں کراچی چیمبر کا رکن رہ چکا ہوں، اکیسویں ویں صدی میں معیشت کا پہیہ پرائیویٹ سیکٹر چلاتا ہے۔اس موقع پربزنس مین گروپ کے چیئرمین سراج قاسم تیلی نے کہاکہ ہمارافوکس آنے والا منی بجٹ ہے، کچھ ایسے مسائل ہیں جنہیں ترجیحی بنیادوں پرحل کرنا چاہیے۔ کراچی میں گیس بحران کے معاملیکومکمل حل کیا جائے، صنعتوں کواتوارکوبھی گیس سپلائی بند نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 158 پر عملدرآمد کو یقینی بنائے اور سندھ سے نکلنے والی گیس سے پہلے سندھ کی ضروریات کو پورا کیا جائے۔سراج قاسم تیلی نے کہا کہ ایف بی آر میں نچلے درجے کے افسروں تک طاقت منتقل کی گئی، ایف بی آر افسروں نے طاقت رشوت لینے کیلئے استعمال کی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایف بی آر کو تالہ لگا دیں، شرطیہ 15 فیصد ریونیو بڑھ جائے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں