اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

جرم ثابت ہوئے بغیر نیب کیسے کسی کو مجرم کہہ سکتا ہے، ہر بندے کو چور سمجھ کر پگڑیاں نہ اچھالی جائیں، چیف جسٹس کا نیب پر اظہار برہمی، چیئرمین نیب کو طلب کر لیا

datetime 20  اگست‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ  ڈیسک)نیب انکوائریوں میں نامزد افراد کے نام پر میڈیا پر آنے کے معاملے کی سماعت، پگڑیاں اچھالنا نیب کا حق نہیں، ہر آدمی کو چور سمجھ کر پگڑیاں نہ اچھالی جائیں، چیف جسٹس نے چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال کو اپنے چیمبر میں طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری

میں نیب میں انکوائری کیسز میں نامزد افراد کے نام میڈیا پر آنے کے معاملے کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت میں جرم ثابت ہوئے بغیر نیب کیسےکسی کو مجرم کہہ سکتا ہے، لوگوں کی پگڑیاں اچھالنا نیب کا کوئی حق نہیں، ہر آدمی کو چور سمجھ کر پگڑیاں نہ اچھالی جائیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی انکوائری میں بےگناہ ثابت ہوجاتا ہے تو اس کی معاشرے میں کیا عزت رہ جائے گی، کیا نیب چاہتا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والا سرمایہ کار خوف سے بھاگ جائے۔اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نوٹس بعد میں ملتا ہے اور ٹی وی پر ٹکرز پہلے چلنا شروع ہوجاتے ہیں، نیب میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں جس پر کمرہ عدالت میں موجود پراسیکیوٹر جنرل نیب اصغر حیدر نے کہا کہ نیب میں بھی خود احتسابی کا عمل جاری ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ کسی کی طلبی کا معاملہ تو خفیہ ہونا چاہیے اور کسی تفتیشی کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کرنے کا پتہ چلے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔جسٹس میاں ثاقب ںثار نے کہا کہ جتنی معلومات چیف جسٹس کے پاس ہیں شاید کسی اور ادارے کے پاس نہیں، پہلے نیب کی عدلیہ میں کوئی عزت نہیں تھی لیکن اب نیب کی عدالتوں میں بھی عزت ہوتی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کے بندےکو نوکری نہیں ملی تو پرائیویٹ بندہ بلا کر بےعزت کررہے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو پیر کو اپنے چیمبر میں طلب کرتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل نیب اصغر حیدر کو بھی پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…